اسلام آباد:وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پاک سعودی عرب بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ سعودی وزیر سرمایہ کاری، وفد اور شریک پاکستانی حکام کو خوش آمدید کہتا ہوں، سعودی عرب کے مہمانوں کا یہاں آنا ہمارے لئے اعزاز کی بات ہے۔پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان برادرانہ تعلقات ہیں، پاکستان دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کیلئے سعودی وفد کا پرتپاک خیر مقدم کرتا ہے، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے تاریخی تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے، سعودی عرب نے مشکل معاشی حالات میں پاکستان کی بہت مدد کی۔ پاک سعودی عرب اسٹریٹجک شراکت داری نئے دور میں داخل ہوگئی ہے، پاکستان کی معیشت پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہے، پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کیلئے سازگار ماحول موجود ہے، پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری،علاقائی سالمیت کیلئے پرعزم ہے، اقتصادی بحالی کے ایجنڈے کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کو چیلنجز درپیش ہیں، پاکستان 2017 میں 24ویں بڑی معیشت تھا، پاکستان معاشی لحاظ سے مضبوط ملک تھا، پاکستان آئندہ چند سالوں میں جی 20 ممالک میں شامل ہونے والا تھا۔نائب وزیر اعظم نے کہا کہ شہبازشریف کو جب وزارت عظمی ملی تو ملک کو دوبارہ معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کیا، وہ وقت دور نہیں جب پاکستان دوبارہ جی 20 ممالک میں شامل ہوگا، روپے کی قدر میں استحکام، معاشی اشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں۔نائب وزیر اعظم نے کہا کہ وزیراعظم شہبازشریف کی گورنمنٹ معاشی بحالی کیلئے کوششیں کر رہی ہے، مہنگائی کم ہوئی ہے، فارن ریزرو میں اضافہ ہوا ہے، بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی معاشی بہتری کا اعتراف کیا جارہا ہے، پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا رہا ہے۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان جلد دوبارہ دنیا کی 24 ویں معیشت بن کر ابھرے گا، پاکستان سعودی سرمایہ کاروں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، پاکستان سعودی عرب کو کان کنی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتا ہے، پاکستان میں آئی ٹی کا شعبہ عالمی سرمایہ کاروں کو راغب کر رہا ہے، آئی ٹی، مائنز اینڈ منرلز، زراعت اور فوڈ سکیورٹی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔اسحاق ڈارنے کہا کہ زراعت، قابل تجدید توانائی کے شعبے سعودی سرمایہ کاری کیلئے کھلے ہیں، پاکستان کی زرمبالہ کی مد میں سعودی عرب نے قابل ذکر مدد کی، ہماری ترجیح میکرواکنامک استحکام ہے

Leave feedback about this