اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت انتہائی اہم اجلاس میں وفاقی کابینہ نے ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ کر لیا، نفاذ سے پہلے خیبرپختونخوا حکومت کو ایک اور موقع دینے کا فیصلہ کیا، مولانا فضل الرحمن سے ہنگامی رابطہ کر لیا گیا۔
وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر داخلہ محسن نقوی، مشیر رانا ثنا اللہ، وزیر مملکت طلال چودھری، امیر مقام، سید عمران شاہ، حنیف عباسی، معین وٹو، پرویز خٹک،احد چیمہ، مصطفٰی کمال اور ہارون اختر شریک ہیں۔
ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے خیبر پختنوخوا میں دہشت گردی کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خاتمے کی بجائے دہشت گردی کے خلاف جنگ سے دانستہ لاتعلقی تشویشناک ہے۔
کابینہ میں یہ تجویز دی گئی کہ خیبر پختونخوا کے حوالے سے کسی بھی حتمی فیصلے سے پہلے مولانا فضل الرحمن کے ذریعے آخری کوشش کی جائے۔اجلاس کے دوران ہی نائب وزیرِ اعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے مولانا فضل الرحمن سے رابطہ کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف خیبر پختونخوا حکومت وفاقی حکومت کا ساتھ دے۔
خیبر پختونخوا کی صورتحال پر پولیس اور احساس اداروں کی خصوصی رپورٹس وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کی گئی ہیں، خیبر پختونخوا میں امن و استحکام کی بحالی اور گورننس سے متعلق اہم امور وفاقی کابینہ کے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہیں۔حکومتی ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اہم اجلاس میں خیبرپختونخوا کی صورتحال سے متعلق بڑے اور اہم آئینی اور انتظامی فیصلے متوقع ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی زیرِ صدارت اجلاس میں خیبر پختونخوا پولیس اور حساس اداروں کی دو اہم خصوصی سکیورٹی رپورٹس پیش کی گئی ہیں۔رپورٹ کے مطابق دو برس کے دوران خیبر پختونخوا میں دہشت گرد حملوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا، دہشت گردی میں مسلسل اضافہ صوبے کی سکیورٹی صورتحال کیلئے سنگین اور تشویشناک چیلنج بن گیا۔
حساس اداروں کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں موجود دہشت گرد عناصر اور مقامی سہولت کاروں کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت کی ناقص پالیسی اور دہشت گردوں کے لئے نرم گوشے نے خطرات میں اضافہ کیا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ صوبائی سطح پر تیاری، توجہ اور مؤثر انسدادِ دہشت گردی اقدامات میں کمی سے دہشت گرد عناصر کو جگہ بنانے کا موقع ملا۔
یکم مارچ 2024 سے 23 ستمبر 2026 تک خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، دہشت گرد نیٹ ورکس، سہولت کاری اور غیر قانونی سرگرمیوں کے باہمی روابط بھی سکیورٹی کیلئے سنگین چیلنج قراردیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2026 میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں سے 73 فیصد کا نشانہ پولیس اور سکیورٹی ادارے بنے، خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کی جانب سے ڈرون کے استعمال میں تشویشناک اضافہ ہوا۔
2024 میں پولیس اور سکیورٹی اداروں پر کوئی ڈرون حملہ رپورٹ نہیں ہوا جبکہ 2026 میں دہشت گردوں کے ڈرون حملوں کی تعداد 170 تک پہنچ گئی، ایک سال کے دوران دہشت گردوں کے ڈرون حملوں میں تقریباً 107 فیصد اضافہ ہوا۔
