جو ارکان اسمبلی یا پارٹی قائدین 4 اکتوبر کو پاکستان میں موجود نہیں ہوں گے، ان کا پاکستان تحریکِ انصاف سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ وہ اپنے لیے کوئی دوسری پارٹی بنا لیں۔ جنید اکبر
پی ٹی آئی خیبرپختونخواہ کے صدر جنید اکبر نے ارکان اسمبلی اور پارٹی قائدین کیلئے 4 اکتوبر کے حوالے سے سخت پیغام جاری کردیا ہے۔ ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ جو جو ایم پی ایز، ایم این ایز یا پارٹی قائدین 4 اکتوبر کو پاکستان میں موجود نہیں ہوں گے، ان کا پاکستان تحریکِ انصاف سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔
وہ اپنے لیے کوئی دوسری پارٹی بنا لیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہی گھر سے چار وزیراعلیٰ، اور دو وزیراعظم، 46 سالوں سے ملک اور قوم پر مسلط ہیں، لیکن ملک کو برباد عمران خان نے کیا ہے، واہ کیا سوچ ہے ان کی۔ جنید اکبر نے اپنے مزید ایک ٹویٹ میں کہا کہ اگر آپ چورہو، نااہل ہو، اور محبِ وطن نہ بھی ہو، پھر بھی آپ طاقتور قوتوں کو قبول ہو بس آپ کو لیلہ ہونا چاہیے، ورنہ پھر آپ یا تو جیل میں ہوں گے یا نااہل ہوں گے، بے شک آپ محبِ وطن اور ایماندار ہوں اور عوام آپ کے ساتھ ہو۔
جنید اکبر نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ جب تک عمران خان نہیں کہیں گے، سہیل آفریدی وزیراعلیٰ رہیں گے، تحریک انصاف کے لیے تیاری کا لفظ کوئی خاص معنی نہیں رکھتا، ہمارے کارکن 24 گھنٹے میں ہی باہر نکل آتے ہیں،علی امین گنڈا پور کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں رہے ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں خیبرپختونخوا کے عوام اور ہم نے دی ہیں، خیبرپختونخوا کے عوام ان کا بیانیہ پہلے بھی مسترد کر چکے ہیں اور آئندہ بھی مسترد کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ مخالفین جتنی مرضی پریس کانفرنسز کرلیں، عوام ان کو دیکھنا نہیں چاہتے، ہماری تیاری مکمل تھی، اسی لیے حکومت نے اتنی بڑی تعداد میں کنٹینرز اور پولیس فورس تعینات کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت پریشان تھی۔ تحریک انصاف کے لیے تیاری کا لفظ کوئی خاص معنی نہیں رکھتا، ہمارے کارکن 24 گھنٹے میں ہی باہر نکل آتے ہیں، بیک چینل مذاکرات ان کے علم میں نہیں، تاہم سیاسی لوگوں کے درمیان رابطے ہمیشہ رہتے ہیں۔
جنید اکبر نے کہا کہ ہم نے ہر فورم استعمال کیا ہے، ملک ہمارا اور ادارے ہمارے ہیں، اس لیے ڈائیلاگ کے ذریعے راستہ نکالا جانا چاہیے، ہماری پہلی ترجیح ملک ہے، سیاست بعد میں ہے۔ علی امین گنڈاپور سے متعلق سوال پر جنید اکبر نے کہاکہ ان کے ساتھ ان کے تعلقات اچھے نہیں رہے، اس لیے مناسب نہیں کہ وہ علی امین گنڈاپور کے بیان پر تبصرہ کریں۔
