گھر بیٹھے ورکرز کو زدوکوب اور ہراساں کیا جارہا ہے، پی ٹی آئی کارکنان کے ساتھ جو جبر کیا جارہا ہے، ہرظلم کا اللہ کی عدالت میں حساب دینا ہوگا۔
رہنماء پی ٹی آئیرہنماء پی ٹی آئی مہربانو قریشی کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کا اتنا خوف کہ پنجاب میں جبر کی ہر حد پار کی جا رہی ہے، گھر بیٹھے ورکرز کو زدوکوب اور ہراساں کیا جارہا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کا خوف حکومت کے اعصاب پر اس قدر سوار ہے کہ پنجاب میں جبر کی ہر حد پار کی جا رہی ہے، مجھے حیرت ہورہی ہے کہ میاں محمود الرشید کے گھر جس پولیس گھسی، شاید یہ جرم ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ان کے گھر آرہا ہے اور ان کے گھر میں دعوت ہے، اب شاید یہ پنجاب میں جرم بن چکا ہے، ان کے گھر جس طرح پنجاب پولیس گھسی ان کی باپردہ بیوی ہے ، مرد اہلکار گھروں میں گھس کر پردہ دار خواتین کو ہراساں کر رہے ہیں۔
میاں محمود الرشید کو تین سو سال کی سزائیں بھی کافی نہ ہوئیں۔ پھر بھی دل کو ٹھنڈک نہیں پہنچ رہی۔ حکومت پنجاب اپنے خوف کی وجہ سے لوگوں کو زدوکوب کررہی ہے، لوگوں کو ہراساں کیا جارہا ہے، پنجاب میں فسطائیت ڈھائی ہوئی ہے۔ حکومت جو پی ٹی آئی کارکنان کے ساتھ جو جبر کررہی ہے، اللہ کی عدالت میں ہر ظلم کا حساب دینا ہوگا۔
دوسری جانب تحریک انصاف خیبرپختونخواہ کے صدر اور رکن قومی اسمبلی جنید اکبر خان نے پنجاب حکومت اور ملکی سیاسی صورتحال پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب پر مسلط لوگ اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر چڑھ کر اقتدار میں آئے ہیں، اسی لیے انہیں عوام کی کوئی فکر نہیں ہے اور وہ سرکاری وسائل پر عیاشیاں کر رہے ہیں، اس کے برعکس خیبرپختونخواہ میں عوام کی حقیقی منتخب حکومت قائم ہے جہاں کسی قسم کی عیاشیاں نہیں ہوتیں اور عوامی وسائل کا تحفظ کیا جاتا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قید کے دوران ان کی عمران خان سے چار مرتبہ ملاقاتیں ہوئی ہیں اور ہر بار ان کے بلند مورال اور چٹان جیسے حوصلے کو دیکھ کر وہ دنگ رہ جاتے تھے، عمران خان سخت ترین جیل کی صعوبتیں اور مشکلات برداشت کرنے کے باوجود باہر سے آنے والے رہنماؤں کو تسلی دیتے تھے اور ہدایت کرتے تھے کہ ظلم اور فاشزم کے سامنے ڈٹے رہو، یہ نا انصافی اور ظلم کا نظام زیادہ دیر نہیں چل سکے گا اور ملک میں ان شاء اللہ جلد قانون کی حکمرانی قائم ہوگی۔

Leave feedback about this