حکومت نے ایک ماہ کے دوران پیٹرول کی قیمت میں 59 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمتوں میں 32 روپے اضافہ کر دیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 14 اگست کو پیٹرول 325 روپے 43 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 383 روپے 95 پیسے فی لیٹر تھا۔ موجودہ نرخوں سے تقابل کیا جائے تو ایک ماہ کے دوران پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 59 روپے جبکہ ڈیزل میں تقریباً 32 روپے فی لیٹر اضافہ ہو چکا ہے۔
گزشتہ چند روز کے دوران قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ 15 ستمبر کیلئے پیٹرول 4 روپے 42 پیسے مہنگا کر کے 380 روپے 24 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 6 روپے 10 پیسے اضافے کے بعد 409 روپے 42 پیسے فی لیٹر مقرر کیا گیا تھا۔
حکام کے مطابق نئی قیمتوں کا تعین عالمی منڈی میں خام تیل کے نرخوں اور گزشتہ 7 روز کی اوسط قیمتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔ اوگرا روزانہ کی بنیاد پر پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کے نرخ جاری کرتا ہے جس کے تحت عالمی قیمتوں میں تبدیلی کو مقامی صارفین تک منتقل کیا جاتا ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کے ساتھ ہی ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے، گزشتہ دنوں گڈز ٹرانسپورٹرز کی جانب سے بھی ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث کرایوں میں اضافے کا اعلان کیا گیا تھا۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے موٹر سائیکل سواروں، رکشہ اور چنگچی صارفین سمیت 800 سی سی تک کی گاڑیوں کیلئے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر دینے کی خصوصی اسکیم کا اعلان بھی کیا ہے۔
حکومت کے مطابق فیول ریلیف اسکیم کا مقصد بڑھتی ہوئی پیٹرول کی قیمتوں کے اثرات کو کم کرنا ہے اور محدود آمدن رکھنے والے صارفین کو سہولت فراہم کرنا ہے، ملک بھر میں اس اسکیم کے نفاذ کیلئے رجسٹریشن اور دیگر انتظامات بھی کیے جارہے ہیں۔
ادھر وفاقی حکومت نے گزشتہ روز پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کیا، جس کے بعد پیٹرول 384 روپے 34 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 415 روپے 83 روپے فی لیٹر ہوگیا ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نئے نرخوں کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 10 پیسے اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 6 روپے 41 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔
نئے نرخوں کا اطلاق آج سے ہوا ہے، حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کیلئے روزانہ کی بنیاد پر نظر ثانی کا طریقہ کار اختیار کر رکھا ہے، جس کے تحت عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا اثر مقامی نرخوں پر بھی پڑ رہا ہے۔

Leave feedback about this