ماضی میں اپنی اداکاری سے ناظرین کے دل جیتنے والی نامور ٹی وی اور اسٹیج آرٹسٹ مسکان ملک آج کل انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
بدلتے وقت، بے روزگاری اور معاشی مشکلات نے سابق اداکارہ کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے کہ گزر بسر کے لیے وہ کوئٹہ میں سڑک کنارے دودھ کی ٹھنڈی بوتلیں فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔
شہرت اور روشنیوں سے دور مسکان ملک آج بیمار شوہر اور خاندان کی کفالت کے لیے سڑک کنارے دودھ کی بوتلیں فروخت کر رہی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ میری مجبوریاں مجھے کھینچ کر سڑک پہ لے آئیں اور میں یہاں دودھ کی ٹھنڈی بوتلیں بیچ رہی ہوں، میں نے اپنے فنکار ہونے سے انکار ابھی تک نہیں کیا، میں اسی انتظار میں بیٹھی ہوں کہ مجھے کام ملے گا اور میں کام کروں گی۔
مسکان ملک کا کہنا ہے کہ کرائے کے گھر میں رہتی ہوں، بجلی اور گیس کے بل کتنے آتے ہیں آپ سب کو پتہ ہے، 20، 25 ہزار روپے کا بل آ جاتا ہے اور پھر پانی کے ٹینکر اور بیماری بھی۔
واضح رہے کہ مسکان ملک نے 13 سال کی عمر میں اداکاری کی دنیا میں قدم رکھا تھا اور انہوں نے متعدد ٹی وی ڈراموں اور اسٹیج پر اداکاری کےجوہر دکھائے۔
مسکان ملک کو حکومتی آرٹسٹ ویلفیئر فنڈ سے ماہانہ 10 ہزار روپے ملتے ہیں، عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ ایسے فنکاروں کی فلاح و بہبود کے لیے مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
