پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے وزارتِ صحت کو 13 سالہ عائشہ کے بون میرو ٹرانسپلانٹ کے اخراجات اٹھانے کی ہدایت کردی۔
وزیراعلیٰ نے راولپنڈی کی 13 سالہ عائشہ کے بون میرو ٹرانسپلانٹ کے لئے ڈپٹی کمشنر راولپنڈی ندیم ناصر سے تفصیلات طلب کی ہیں۔ 13 سالہ عائشہ کو فینکونی انیمیا کینسر ہے اور ڈاکٹروں نے ان کے علاج کے لئے بون میرو ٹرانسپلانٹ کو ضروری قرار دیا ہے۔
راولپنڈی کی 13 سالہ عائشہ کی زندگی ڈوربون میرو ٹرانسپلانٹ سے بندھ گئی ہے۔ ان کے والد ایک ڈرائیور ہیں جو علاج کے اخراجات برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ عائشہ کے علاج کے لئے بیت المال نے دس لاک روپے فراہم کئے اور ایک دردمند شہری نے پانچ لاکھ روپے دیئے لیکن بون میرو ٹرانسپلانٹ کیلئے کم از کم پچیس لاکھ روپے کی ضرورت ہے۔
عائشہ کے والد کہا کہنا تھا بیٹی نارمل زندگی کی طرف واپس آ کر تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اس کے علاج کے لئے درکار باقی رقم بھی جمع ہوپائے تو بیٹی صحت یاب ہو کر اپنی تعلیم جاری رکھ پائے گی۔
عائشہ ساتویں گریڈ میں پڑھ رہی ہیں۔ اس اذیت ناک مرض کا وہ حوصلے کے ساتھ سامنا کر رہی ہیں اور جلد صحت یاب ہو کر سکول میں نارمل بچیوں کی طرح تعلیم جاری رکھنے کے لئے پر امید ہیں۔
عائشہ کو ابھی جی بھر کر جینا ہے، پڑھنا ہے اور اپنی دوستوں کے ساتھ ہنسنا کھیلنا ہے۔ اس معصوم کے خوابوں کو بکھرنے سے بچانے کے لیے پنجاب کی وزیر اعلیٰ ماں بن کر آگے بڑھی ہیں جس کے بعد اب عائشہ کو امید ہے کہ وہ اپنے خواب پورے کر سکیں گی۔
حکومت اور صاحب ثروت افراد کو آگے بڑھنا ہوگا۔
معلوم ہوا ہے کہ ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے پہلے ہی متاثرہ فیملی سے رابطہ کیا اور انہیں عائشہ کے علاج کے لئے ہر ممکن تعاون اور مدد کا یقین دلایا تھا۔ اب وزیر اعلیٰ مریم نے خود اس بچی کی مدد کرنے کا اعلان کر کے اس کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دی ہے۔
