کراچی میں فرانس کا قونصل خانہ باضابطہ اور مستقل طور پر بند کر دیا گیا ہے جس کے بعد عمارت سے فرانس اور یورپی یونین کے پرچم اتار دیے گئے ہیں۔
فرانسیسی حکام نے ‘الوداع کراچی’ کا پیغام جاری کرتے ہوئے اپنے تمام شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا ہے، جس نے سفارتی اور تجارتی حلقوں کو حیران کر دیا ہے۔
کراچی میں قائم فرانس کے قونصل خانے کو مستقل طور پر بند کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا ہے۔ اس اہم پیش رفت کے موقع پر قونصل خانے کی عمارت سے فرانسیسی جمہوریہ اور یورپی یونین کے پرچم باضابطہ طور پر اتار لیے گئے۔
جو اس بات کی حتمی علامت ہے کہ اب یہاں سے کوئی قونصلر یا سفارتی سرگرمیاں انجام نہیں دی جائیں گی۔ یہ اقدام انتہائی خاموشی اور تیزی سے اٹھایا گیا ہے، جس کی باقاعدہ تصدیق مشن کی جانب سے کی گئی ہے۔
اپنے آخری اور جذباتی پیغام میں فرانسیسی قونصل خانے کی جانب سے شہرِ قائد کو ‘الوداع کراچی’ کہا گیا ہے۔ سفارتی حکام نے اس موقع پر اپنے تمام مقامی دوستوں، کاروباری شراکت داروں اور متعلقہ حکام کا ان کے طویل المدتی تعاون پر دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔
واضح رہے کہ یہ قونصل خانہ دہائیوں تک دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی، تجارتی اور عوامی رابطوں کو فروغ دینے کا ایک انتہائی اہم اور فعال مرکز رہا ہے۔
کراچی، جو پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور معاشی حب ہے، میں دنیا کے متعدد اہم ممالک کے سفارتی مشنز اور قونصل خانے موجود ہیں جو تجارتی روابط، ویزا کے اجرا اور ثقافتی تبادلوں کے امور سرانجام دیتے ہیں۔
فرانس اور پاکستان کے درمیان طویل عرصے سے گہرے دفاعی اور تجارتی تعلقات قائم رہے ہیں۔ تاہم، حالیہ چند برسوں میں انتظامی وجوہات، سیکیورٹی خدشات، ویزا کے طریقہ کار میں ڈیجیٹلائزیشن اور سفارتی اخراجات کو کم کرنے کی عالمی پالیسیوں کے تحت کئی مغربی ممالک اپنے سفارتی مشنز کو محدود کر کے دارالحکومت تک مرتکز کر رہے ہیں۔
ماضی میں بھی کراچی میں بعض دیگر یورپی ممالک کے قونصل خانوں کے حوالے سے ایسی انتظامی تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔
کراچی جیسے بڑے معاشی اور بین الاقوامی تجارتی مرکز میں کسی بھی اہم یورپی ملک کے قونصل خانے کا مستقل بند ہونا ایک غیر معمولی پیش رفت اور سفارتی حلقوں کے لیے حیران کن امر ہے۔
اگرچہ سفارتی حکام کی جانب سے فوری طور پر اس مستقل بندش کی کوئی ٹھوس اور تفصیلی وجہ بیان نہیں کی گئی، لیکن یہ فیصلہ پاک فرانس تجارتی اور ثقافتی تعلقات کی زمینی حرکیات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
اس انتظامی اور سفارتی اقدام کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ فرانس اب اپنے تمام تر قونصلر اور سفارتی معاملات دارالحکومت میں قائم اپنے مرکزی سفارت خانے سے ہی چلائے گا۔
اس بندش سے سندھ اور بلوچستان کے ان عام شہریوں، طلبا اور تاجروں کو یقیناً مشکلات اور تاخیر کا سامنا کرنا پڑے گا جنہیں اب فرانسیسی ویزا کے حصول یا دیگر قانونی دستاویزات کی تصدیق کے لیے طویل سفر کر کے دارالحکومت جانا پڑے گا۔