ایران نے 4 ماہ میں پیٹرول کی برآمد سے کتنے ارب ڈالر کی آمدنی حاصل کی؟اچانک خبر نے ٹرمپ کے اوسان خطا کردیئے تازہ ترین Roze News
تازہ ترین دنیا معیشت و تجارت

ایران نے 4 ماہ میں پیٹرول کی برآمد سے کتنے ارب ڈالر کی آمدنی حاصل کی؟اچانک خبر نے ٹرمپ کے اوسان خطا کردیئے

ایران نے 4 ماہ میں پیٹرول کی برآمد سے کتنے ارب ڈالر کی آمدنی حاصل کی؟اچانک خبر نے ٹرمپ کے اوسان خطا کردیئے

ایران نے 4 ماہ میں پیٹرول کی برآمد سے کتنے ارب ڈالر کی آمدنی حاصل کی؟اچانک خبر نے ٹرمپ کے اوسان خطا کردیئے

ایران نے رواں ایرانی سال کے ابتدائی چار ماہ کے دوران خام تیل کی برآمد سے تقریباً 7.5 ارب ڈالر حاصل کیے جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً ڈیڑھ گنا زیادہ ہے۔

ایرانی نیم سرکاری خبر ایجنسی فارس نے وزارتِ تیل کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ مارچ کے اواخر سے جولائی تک تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدن میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

پیٹرول کی برآمدات سے ہونے والے اس ریکارڈ آمدنی کی وجوہات میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور برآمدی حجم میں تبدیلی شامل ہیں۔

ایرانی حکومت کے لیے یہ آمدن ایسے وقت میں اہم سمجھی جارہی ہے جب ایران کو امریکی پابندیوں، مالیاتی رکاوٹوں اور جنگ کے باعث شدید معاشی دباؤ کا سامنا ہے

اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ تیل کی برآمدات بدستور ایران کے لیے زرمبادلہ حاصل کرنے کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ ایران کی تیل برآمدات میں چین کا کردار سب سے نمایاں ہے۔

تجارتی اور شپنگ ڈیٹا کے مطابق چینی نجی ریفائنریاں ایرانی خام تیل کی بڑی خریدار رہی ہیں جبکہ امریکی پابندیوں کے باعث ایران کو اپنی برآمدات کے لیے متبادل مالیاتی اور شپنگ ذرائع استعمال کرنا پڑتے ہیں

امریکا نے رواں سال جون میں محدود مدت کے لیے ایرانی تیل کی پیداوار، فروخت اور ترسیل سے متعلق بعض سرگرمیوں کی اجازت بھی دی تھی۔

 

امریکی محکمہ خزانہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اجازت 21 اگست تک مؤثر تھی اور اس کا مقصد ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کے تحت توانائی کی تجارت کو عارضی سہولت دینا تھا۔

اس عارضی نرمی کے بعد ایرانی تیل کی برآمدات میں بھی وقتی اضافہ دیکھا گیا۔ جون کے وسط سے جولائی کے وسط تک ایران نے تقریباً 7 کروڑ بیرل خام تیل برآمد کیا جس کی مالیت موجودہ عالمی قیمتوں کے حساب سے 5 سے 6 ارب ڈالر کے درمیان بنتی تھی۔

 

خیال رہے کہ ایران کئی برس سے امریکی پابندیوں کے باعث اپنے تیل کی برآمدات محدود ہونے کے باوجود چین کو خام تیل فروخت کرتا آیا ہے۔

علاوہ ازیں پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال ہونے والے غیر روایتی شپنگ اور مالیاتی نیٹ ورک، جن میں درمیانی ادارے اور خفیہ بیڑے شامل ہیں ایرانی تیل کی تجارت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

تاہم تیل کی آمدن میں موجودہ اضافہ مستقبل کے لیے مکمل طور پر محفوظ آمدن قرار نہیں دیا جاسکتا۔ امریکی دباؤ اور آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی نے ایرانی تیل کی ترسیل کو شدید متاثر کیا ہے۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق اگست کے آغاز تک ایران کے مرکزی تیل برآمدی مرکز خارک جزیرے پر ٹینکروں کی آمدورفت تقریباً رک گئی تھی جبکہ جولائی کے آخر سے وہاں تیل لوڈ کیے جانے کے شواہد نہیں ملے۔

اس صورت حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابتدائی چار ماہ میں حاصل ہونے والی نمایاں آمدن کے باوجود ایران کی آئندہ تیل برآمدات کو بڑے خطرات لاحق ہیں۔

ایران کی تیل برآمدات میں رکاوٹ کا اثر صرف ایرانی معیشت تک محدود نہیں۔ آبنائے ہرمز سے عالمی توانائی کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور حالیہ کشیدگی کے باعث اس راستے سے جہازوں کی آمدورفت سست پڑ چکی ہے۔

واضح رہے کہ آج 19 اگست کو مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تقریباً ایک فیصد بڑھ کر تین ہفتوں کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئیں۔

Exit mobile version