پاکستان نے مالی سال 2025-26 کے دوران امریکا کے ساتھ تجارت میں 2 ارب 59 کروڑ ڈالر کا تجارتی سرپلس حاصل کیا ہے۔ امریکا پاکستان کے لیے سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی توازن مسلسل پاکستان کے حق میں رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق مالی سال 2025-26 میں پاکستان نے امریکا کو 5 ارب 91 کروڑ ڈالر کی اشیا برآمد کیں، جبکہ اسی عرصے کے دوران امریکا سے 3 ارب 32 کروڑ ڈالر کی درآمدات ہوئیں۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ پانچ سال کے دوران امریکا کے لیے پاکستان کی مجموعی برآمدات 29 ارب 15 کروڑ ڈالر رہیں، جبکہ امریکا سے پاکستان کی مجموعی درآمدات 12 ارب 12 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔ اس طرح پانچ سال کے دوران پاکستان کا امریکا کے ساتھ مجموعی تجارتی سرپلس 17 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا۔
ذرائع کے مطابق مالی سال 2024-25 میں پاکستان کا امریکا کے ساتھ تجارتی سرپلس 4 ارب 9 کروڑ ڈالر رہا۔ اس عرصے میں امریکا کے لیے پاکستانی برآمدات 5 ارب 84 کروڑ ڈالر جبکہ امریکا سے درآمدات ایک ارب 74 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہیں۔
مالی سال 2023-24 میں پاکستان کا امریکا کے ساتھ تجارتی سرپلس 4 ارب 2 کروڑ ڈالر تھا۔ اس سال پاکستان نے امریکا کو 5 ارب 29 کروڑ ڈالر کی برآمدات کیں، جبکہ امریکا سے درآمدات کا حجم ایک ارب 26 کروڑ ڈالر رہا۔
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2022-23 میں پاکستان کا امریکا کے ساتھ تجارتی سرپلس 3 ارب 25 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ اس دوران امریکا کے لیے پاکستانی برآمدات 5 ارب 28 کروڑ 50 لاکھ ڈالر جبکہ امریکا سے درآمدات 2 ارب 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر رہیں۔
مالی سال 2021-22 میں پاکستان کا امریکا کے ساتھ تجارتی سرپلس 3 ارب 7 کروڑ ڈالر تھا۔ اس عرصے میں پاکستان کی امریکا کے لیے برآمدات 6 ارب 83 کروڑ ڈالر جبکہ امریکا سے درآمدات 3 ارب 76 کروڑ ڈالر رہیں۔
ذرائع کے مطابق پانچ سال کے تجارتی اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا پاکستان کی اہم ترین برآمدی منڈیوں میں سرفہرست ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں پاکستان کو مسلسل نمایاں تجارتی سرپلس حاصل رہا ہے۔

Leave feedback about this