اٹلی نے سپین پر ویزا کی پابندیاں عائد کر دیں اور سپین سے جانے والے گیر سپینی افراد کے لئے شنجین معاہدہ کے تحت ویزا کے بغیر اٹلی آنے کی سہولت معطل کر دی۔ اٹلی یورپی یونین میں سپین پر ویزا کی پابندیاں لگانے والا پہلا ملک ہے۔ یورپی یونین کے کئی ملکوں نے سپین کی امیگریشن پالیسی اور غیر قانونی امیگریشن کو روکنے میں خوفناک ناکامی کے بعد سپین کو شینجن معاہدہ سے نکالنے کا ارادہ ظاہر کیا لیکن اٹلی نے سپین کے لئے شینجن معاہدہ پہلے ہی معطل کر دیا۔
اٹلی کی پرائم منسٹر نے جمعہ کو کہا کہ انہوں نے مراکش کی سرحد سے متصل شمالی افریقہ میں میڈرڈ کے سیوٹا انکلیو میں غیر قانونی امیگرنٹس کی آمد کے بعد سپین کے ساتھ اپنا شینگن معاہدہ معطل کر دیا ہے۔
وزیر اعظم جارجیا میلونی نے سپین کیلئے شینجن معاہدہ کی ایک ماہ کی معطلی کو ایک "غیر معمولی اقدام” قرار دیا جس کا مقصد اٹلی کی”قومی سلامتی کی حفاظت اور ہماری قوم کے لیے ممکنہ اثرات کو روکنا” ہے۔
اٹلی کی وزارت داخلہ نے اے ایف پی کو تصدیق کی کہ اٹلی نےسپین کے لیے اپنے سمندری اور فضائی داخلے کے راستے بند کر دیئے ہیں، لیکن بتایا کہ اس سے سپینش اور یورپی شہریوں کے اٹلی کے سفر پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
ایک ترجمان نے یہ بھی کہا کہ فرانس کے ساتھ بات چیت کے بعد دونوں ممالک پہلے سے موجود زمینی سرحدی کنٹرول کو مزید تقویت دیں گے۔
اٹلی کی مخلوط حکومت نے ہر سال ان دسیوں ہزار تارکین وطن کو روکنے کی کوشش کی ہے جو چھوٹی کشتیوں میں ہر سال ملک کے ساحلوں پر اترتے ہیں۔
اٹلی کی پرائم منسٹر جارجیا میلونی نے کہا کہ اٹلی "یونین کی بیرونی سرحدوں پر مکمل کنٹرول بحال کرنے” کے لیےسپین کی مدد کے لیے کسی بھی یورپی اقدام کی حمایت کرے گا۔

Leave feedback about this