وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملک میں مزید انتظامی یونٹس یا صوبے بنانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوان یا کاکروچ اکٹھے ہوگئے تو سب الٹ سکتے ہیں لہٰذا کے ان کی خواہش اظہار سے پہلے پوری کریں اور نظام کو درست کریں کیونکہ موجودہ نظام فرسودہ ہوچکا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان کی پہلی معاشی سربراہی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ، پنجاب، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور دیگر علاقوں کے تاجروں نے اپنے اپنے مسائل بتائے اور ساتھ ساتھ اپنا غم بھی بتا رہے تھے کہ یہ پاکستان میں یہ بھی ہوسکتا ہے اور مواقع بھی بتا رہے تھے
انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کو اس حال تک پہنچانے میں اس کے ذمہ دار جتنے لوگ ہیں وہ یہاں بیٹھے ہوئے ہیں، ایک چیز جو 70 اور 80 سال سے نہیں چل رہی اس کے پیچھے کوئی وجہ ہوگی، میں پچھلے تین سال سے سیاست میں زیادہ فعال ہوں تو میں آپ کو یہ کہہ سکتا ہوں کہ آپ لوگ 10 سال بھی اسی طرح بیٹھ کر یہی باتیں کر رہے ہوں گے، اسی طرح تقریریں کر رہے ہوں گے کیونکہ ہم جس سسٹم میں رہ رہے ہیں یہ سسٹم گر چکا ہے، آپ مان لیں یا نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک چیز کو آپ 70 سال سے گھسیٹ رہے ہیں، جمہوریت ہم سب چاہتے ہیں، میں جمہوریت کا سب سے بڑا سپورٹر ہوں اور رہوں گا لیکن جمہوریت کے اندر میں 5 -6 قسم کے نظام ہیں، صرف ایک نظام تو موجود نہیں ہے، لیکن ہم کہتے ہیں نہیں جو مرضی ہوجائے ہم اسی کو چلانا ہے اور اسی کو آگے بڑھانا ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ چاہے ہم باہر سے 14 ارب کی زرعی مصنوعات لے آئیں، زرعی ملک ہوتے ہوئے گندم باہر سے لے آئیں اور ہر ایک نے اپنی مرضی بتائیں، سب سے کہا کہ پاکستان بہت ترقی کر رہا ہے، عالمی سطح پر پاکستان کا نام بلند ہو رہا ہے، جو شخص 20-20 گھنٹے جاگ کر اللہ کے فضل سے پاکستان کے لیے کام کر رہے ہیں، ان کو بھی کہوں گا یہ صرف فائر فائٹنگ ہے، جب تک آپ اس ملک کی بنیادی چیز کو جمہوریت کی روح میں رہ کر ٹھیک نہیں کریں گے یہ اسی طرح رہے گا۔

Leave feedback about this