آٹو انڈسٹری کے ماہرین کے مطابق نسان فیکٹری کا چیری کے کنٹرول میں جانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عالمی آٹو مارکیٹ کا محور اب جاپان اور مغرب سے منتقل ہو کر چین کی طرف جا رہا ہے۔
چینی آٹو کمپنیوں کی یہ عالمی توسیع محض ایک تجارتی معاہدہ نہیں بلکہ افریقی مارکیٹ پر مکمل معاشی اثر و رسوخ حاصل کرنے کی کڑی ہے۔
اس منصوبے میں 40 فیصد مقامی پرزہ جات کا استعمال اور چینی سپلائرز کو شامل کرنا ایک انتہائی ذہین حکمت عملی ہے۔ اس سے چیری کو پیداواری لاگت کم کرنے میں مدد ملے گی اور وہ افریقی ممالک کو انتہائی سستی قیمت پر جدید ایس یو وی اور الیکٹرک گاڑیاں فراہم کر سکے گی، جس کا مقابلہ کرنا جاپانی یا یورپی کمپنیوں کے لیے ناممکن ہو جائے گا۔
مزید برآں 692 ملازمین کو برقرار رکھ کر چیری نے جنوبی افریقی حکومت کا اعتماد بھی جیت لیا ہے، جو مستقبل میں اسے ٹیکس چھوٹ اور دیگر مراعات دلوانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ یہ اقدام آنے والے وقتوں میں افریقہ میں جاپانی گاڑیوں کی اجارہ داری کے خاتمے کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔