گوادر سے ایران ٹرانزٹ تجارت کیلئے مختصر ترین زمینی راہداری فعال، جس سے تاجروں کیلئے نئے مواقع پیدا ہونے اور تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافے کی توقع ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی روابط کو مزید مستحکم بنانے کی جانب اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ گوادر پورٹ اتھارٹی (جی پی اے) نے ایران کے ساتھ ٹرانزٹ تجارت کے لیے مختصر ترین زمینی راہداری کو فعال کرتے ہوئے سی جی او 05/2026 کے تحت رہنما ہدایات جاری کر دی ہیں۔
جاری کردہ ہدایات کے مطابق گوادر بندرگاہ سے گبدریمدان سرحدی گزرگاہ کے ذریعے ایران تک سامان کی ترسیل قانونی تقاضوں اور کسٹمز کی نگرانی میں انجام دی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد ٹرانزٹ تجارت کو مزید منظم، تیز اور مؤثر بنانا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گوادر بندرگاہ سے گبد سرحد تک فاصلہ تقریباً 87 کلومیٹر ہے، جو ایران تک مال برداری کے لیے مختصر ترین زمینی راستہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس راہداری کے ذریعے تمام تجارتی سرگرمیاں متعلقہ قانونی، دستاویزی اور کسٹمز ضوابط کے مطابق انجام دی جائیں گی۔
چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نورالحق بلوچ نے بتایا کہ تاجروں کی سہولت کے لیے کسٹمز کی جدید سہولیات فراہم کی جائیں گی، جن میں ٹی آئی آر کارنیٹ (TIR Carnet)، سیکیورٹی کے ساتھ ٹرانزٹ گڈز ڈیکلریشن (GD) اور کراس اسٹف طریقہ کار شامل ہیں، تاکہ سامان کی ترسیل تیز، محفوظ اور شفاف بنائی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اس نئے تجارتی روٹ سے درآمد کنندگان، برآمد کنندگان، ٹرانسپورٹرز، کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس، ویئر ہاؤسنگ اور لاجسٹکس کے شعبے سے وابستہ کاروباری اداروں کے لیے نئے معاشی اور تجارتی مواقع پیدا ہوں گے۔
چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد گوادر بندرگاہ پر تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینا، پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی تعاون کو مزید مضبوط بنانا اور گوادر کو خطے کے ایک اہم ٹرانزٹ اور لاجسٹکس مرکز کے طور پر ترقی دینا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مختصر ترین زمینی راہداری فعال ہونے سے نہ صرف سامان کی ترسیل کے وقت اور لاگت میں کمی آئے گی بلکہ علاقائی تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

Leave feedback about this