امریکہ نے رات گئے ایران میں متعدد فوجی اہداف پر فضائی حملے کیے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز پر مبینہ ایرانی ڈرون حملے کے جواب میں کی گئی، جبکہ حملوں میں ڈرون، میزائل اور ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا کہ کارروائی محدود نوعیت کی تھی اور اس کا مقصد مزید کشیدگی بڑھانا نہیں بلکہ امریکی مفادات کا دفاع کرنا تھا۔
دوسری جانب ایران نے امریکی حملوں کو بین الاقوامی قوانین اور جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مناسب جواب دیا جائے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکی کارروائی خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے، جبکہ ایران نے امریکی مفادات سے منسلک اہداف پر جوابی کارروائی کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
ادھر دوس نے تازہ امریکی حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے اور تمام تنازعات کا حل صرف مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے ممکن ہے۔ ماسکونے خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ میں مزید فوجی کارروائیاں عالمی امن، توانائی کی سپلائی اور بین الاقوامی تجارت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان تازہ فوجی کشیدگی کے بعد خطے میں سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے، جبکہ عالمی منڈی، خصوصاً تیل کی قیمتوں اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی صورتحال پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

Leave feedback about this