تیل سپلائی کے معمول پر آنے اور کشیدگی کم ہونے سے قیمتیں مزید نیچے جا سکتی ہیں، جبکہ اس کا مثبت اثر درآمدی ممالک بشمول پاکستان پر بھی پڑنے کا امکان ہے۔
تفصیلات کے مطابق امریکا ایران معاہدے کے بعد عالمی تیل مارکیٹ میں استحکام کے آثار، قیمتوں میں مزید کمی ریکارڈامریکا اور ایران کے درمیان حالیہ معاہدے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی دیکھی گئی ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق توانائی مارکیٹ میں بتدریج استحکام کے آثار بھی ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق سرمایہ کاروں کے خدشات میں کمی اور تیل کی سپلائی کے معمول پر آنے کی توقعات کے باعث برینٹ خام تیل اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) دونوں کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت کمی کے بعد 78.80 ڈالر فی بیرل جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 74.30 ڈالر فی بیرل پر آ گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کے نتیجے میں آبنائے ہرمز میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات میں کمی آئی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال کم ہو رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر عملدرآمد جاری رہا تو تیل کی سپلائی مزید بہتر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید کمی کا امکان ہے۔ تاہم خطے میں کسی بھی نئی کشیدگی کی صورت میں عالمی منڈی ایک بار پھر متاثر ہو سکتی ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کا مثبت اثر تیل درآمد کرنے والے ممالک، بشمول پاکستان، پر بھی پڑ سکتا ہے، جس سے توانائی کے اخراجات میں کمی اور معیشت پر دباؤ میں کمی متوقع ہے۔
