وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ نے بجٹ پیش کردیا؛ پنشن اور تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ ،کم از کم تنخواہ 45 ہزار مقرر پاکستان Roze News
پاکستان تازہ ترین

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ نے بجٹ پیش کردیا؛ پنشن اور تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ ،کم از کم تنخواہ 45 ہزار مقرر

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ نے بجٹ پیش کردیا؛ پنشن اور تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ ،کم از کم تنخواہ 45 ہزار مقرر

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ نے بجٹ پیش کردیا؛ پنشن اور تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ ،کم از کم تنخواہ 45 ہزار مقرر

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے “خوشحال خیبرپختونخوا” بجٹ 2026-27 صوبائی اسمبلی میں پیش کر دیا۔ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ اور کم از کم تنخواہ 45 ہزار کرنےکی تجویز دی گئی ہے۔

مالی سال 2026-27 کے لیے 2170 ارب روپے کا بجٹ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے پیش کیا ۔بجٹ میں 1645.708 ارب روپے جاری اخراجات اور 524.292 ارب روپے ترقیاتی اخراجات کے لیے مختص کیے گئے ۔ مجموعی وصولیوں کا تخمینہ 2122 ارب روپے مقرر کیے گئے ۔ سہیل آفریدی نے کہا 48 ارب روپے کا متوقع خسارہ صوبائی بچتوں سے پورا کیا جائے گا، نیا قرض نہیں لیا جائے گا، صوبائی محصولات کا تخمینہ 182.41 ارب روپے مقرر، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 50 ارب روپے اضافی ہے،مالی سال 2026-27 بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا،بجٹ کو نو موضوعاتی شعبوں کے گرد ترتیب دیا گیا، امن و امان اور عوامی تحفظ بجٹ کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں، پولیس کا بجٹ بڑھا کر 191.393 ارب روپے کر دیا گیا، پولیس بجٹ میں 185 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، پولیس پروکیورمنٹ پلان کے لیے 14.5 ارب روپے مختص، جدید اسلحہ، بلٹ پروف گاڑیاں، اے پی سیز، ڈرونز اور اینٹی ڈرون سسٹمز خریدے جائیں گے، پولیس کی ماہانہ آپریشنل سپورٹ کے لیے 7.9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

مختلف اضلاع میں نئے سیف سٹی منصوبے شروع کیے جائیں گے، پشاور میں فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کی جائے گی۔ڈرون ٹیکنالوجی کی مدد سے پولیسنگ کے لیے 1 ارب رہے مختص کر دیے ہیں۔پبلک سیکٹر یونیورسٹییز کے لیے گرانٹ ان ایڈ بڑھا کر 11.8 ارب روپے کر دی گئی ہے۔5 ارب روپے کی لاگت سے خیبر انسٹیٹیوٹ آف اپلائیڈ اینڈ ماڈرن سائنسز کے قیام کا منصوبہ شامل ہے۔5 ارب روپے کی لاگت سے ٹرائیبل میڈیکل کالج کا قیام عمل میں لایا جائے گا،صوبے میں 14 نئے گورنمنٹ کالجز کی تعمیر کے لیے 363 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔نوجوانوں کے لیے 1.5 ارب روپے کی لاگت سے انٹرن شپ پروگرام شروع کیا جا رہا ہے۔

یونیورسٹی طلبہ کے لیے بلا سود  قرضوں کی مد میں 2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔زرعی گریجویٹس کے لیے بلاسود قرضوں کا پروگرام شروع کیا جا رہا ہے۔گڈ گورننس اقدامات کے لیے 19.3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

ترسیلات زر میں اضافہ کیلئے منفرد سکیم بھی ہے ۔ بیرون ملک جانے کے خواہشمندوں کو بلاسود قرض دینے کیلئے دو ارب مختص کیے گئے ۔ 30 ہزار شہریوں کو فی کس 5 لاکھ روپے تک قرض فراہم کیا جائیگا۔

عوامی خدمات کی فراہمی، شفافیت، ڈیجیٹلائزیشن اور ادارہ جاتی اصلاحات پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی۔ٹی ڈی پیز کے لیے 17 ارب روپے مختص ہیں ۔ وفاق کی جانب سے ٹی ڈی پیز فنڈز 2022 سے جاری نہ ہونا تشویشناک ہے ۔تعلیم کا مجموعی بجٹ بڑھا کر 468.379 ارب روپے کر دیا گیا۔صوبے میں  10 ارب روپے مالیت کے 72 چیف منسٹر ماڈل سکول قائم کیے جائیں گے، سکولوں کی اپ گریڈیشن اور اساتذہ کی فراہمی کے لیے وسائل مختص کیے گے ۔ شعبہ صحت کا بجٹ بڑھا کر 334.8 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔

لوکل گورنمنٹ کا بجٹ بڑھا کر 90  ارب کر دیا گیا ہے۔ضم اضلاع کے لیے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 29 ارب جبکہ تیز رفتار ترقیاتی پروگرام  کے تحت 52 ارب روپے مختص کیے گئے۔ضم اضلاع کے جاری اخراجات کے لیے 180 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں،صوبے کے آبی وسائل کے تحفظ کے لیے 22.7 ارب روپے مختص کیے گئے، احساس مستحقین پروگرام کے لیے 15 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں،” احساس ماں،  نئی زندگی، نئی امید ” پروگرام کے لیے 1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں،ماؤں کو پہلے دو بچوں کی پیدائش پر فی بچہ 20 ہزار روپے ماہانہ معاونت فراہم کی جائے گی ۔1.1 ارب روپے کی لاگت سے پانچ عدد زمونگ کور کمپلیکسز قائم کیے جائیں گے،ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ اور کم از کم تنخواہ 45 ہزار کرنےکی تجویز دی گئی ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے 1 ارب روپے مالیت کے دو منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔صحت کارڈ پلس کا بجٹ بڑھا کر 50 ارب روپے کر دیا گیا ہے ۔سرکاری اسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی کے لیے فنڈز بڑھا کر 14.2 ارب روپے کر دیئے گئے ہیں۔ایم ٹی آئیز اسپتالوں کو بجٹ بڑھا کر 80 ارب روپے کر دیا گیا ہے ۔بی ایچ یوز اور ار  ایچ سیز کی ری ویمپنگ کے لیے 11 ارب روپے مالیت کے 4 منصوبے شامل ہیں۔چیف منسٹر انیشییٹو فار آؤٹ آف سکول بچوں کے لیے 5 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔مفت نصابی کتب کی فراہمی کے کے لیے 8.5 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت ابتدائی و ثانوی تعلیم کے لیے 10.34 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے ایک ارب روپے مختص ہیں۔

سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی فراہمی کے لیے 14.263 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ہسپتال مینجمنٹ اصلاحات کا دائرہ مزید 72 ہسپتالوں تک بڑھایا جائے گا، 2819 ڈاکٹرز، ڈینٹل سرجنز اور نرسز کی بھرتی کا عمل جاری ہے ، کیٹیگری ڈی ہسپتالوں کو ٹیچنگ ہسپتالوں میں اپ گریڈ کرنے کے لیے 9.9 ارب روپے مختص ہے ۔پشاور میں نئے جنرل ہسپتال کی تعمیر کے لیے 4 ارب روپے مختص ہیں۔کینسر مریضوں کے مفت علاج کے لیے 200 ملین روپے مختص ہے ۔بی ایچ یوز اور آر ایچ سیز کی ری ویمپنگ کے لیے 11 ارب روپے کے چار منصوبے شروع کئے جائیں گے۔صحت کے مختلف روڈ میپ اقدامات کے لیے 1.355 ارب روپے مختص ہے ۔

مفت نصابی کتب کی فراہمی کے لیے 18.5 ارب روپے مختص ہے ۔ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے لیے 10.34 ارب روپے مختص ہیں ۔کم کارکردگی والے سکولوں کی بہتری کے لیے 3.29 ارب روپے مختص ہیں۔تعلیم کارڈ پروگرام کے لیے 360 ملین روپے مختص ہیں۔پیرنٹ ٹیچر کونسلز کے فنڈز بڑھا کر 6.148 ارب روپے کیے گئے ۔ پشاور ری وائیٹلائزیشن پلان کے تحت 120 ارب روپے مالیت کے 29 منصوبے شامل ہیں۔مختلف جگہوں پر انڈر پاسز کی تعمیر کے لیے 4.8 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، پشاور میں نیا رنگ روڈ تعمیر کیا جائے گا، رام داس چوک، لاہوری چوک اور یونیورسٹی روڈ انڈر پاسز کے لیے 3.799 ارب روپے مختص ہیں،

رنگ روڈ کے مسنگ لنک فیز تھری کی تعمیر کے لیے 1.5 ارب روپے مختص ہیں،پشاور میں بجلی کی کیبلز انڈر گراؤنڈ منتقل کرنے کے لیے ایک ارب روپے مختص ہیں، بی آر ٹی آپریشنل سبسڈی اور بسوں کی خریداری کے لیے 7.5 ارب روپے مختص کیے ہیں، ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں پبلک سیکٹر ٹرانسپورٹ کی بہتری کے لیے 2 ارب روپے مختص ہیں ۔

ریسکیو 1122 کی تمام تحصیلوں تک توسیع کے لیے 2.2 ارب روپے مختص کیے گئے ۔ 22.2 ارب روپے کی گرانٹ لوکل کونسلز کے لیے مختص ہے۔ضلعی سطح پر منتقل محکموں کے اخراجات کی مد میں 343 ارب روپے جاری کیے جائیں گے،اپر چترال میں پہلی مرتبہ 5 ارب روپے مالیت کا انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ پیکیج شروع کیا جا رہا ہے۔ضم شدہ اضلاع اور اور سب ڈویژنوں میں روخانہ قبایل پیکج کے تحت 31.5 ارب روپےاھف سے منصوبے شاملِ ہیں۔ضم اضلاع میں احساس نوجوان پروگرام کے لیے 200 ملین روپے مختص ہیں ۔ بنگلو، گلی مرتون، کوہاٹ، ہری پور، صوابی اور کرک میں علاقائی ترقی کے 11 منصوبوں کے لیے 6.8 ارب روپے مختص کیے گے ۔

Exit mobile version