پاکستان زندہ باد، عائشہ بلوچ نے ایشین گیمز 2026 کے فائنل میں بھارتی ریسلرکو دھول چٹا دی پاکستان Roze News
پاکستان تازہ ترین کھیل

پاکستان زندہ باد، عائشہ بلوچ نے ایشین گیمز 2026 کے فائنل میں بھارتی ریسلرکو دھول چٹا دی

پاکستان زندہ باد، عائشہ بلوچ نے ایشین گیمز 2026 کے فائنل میں بھارتی ریسلرکو دھول چٹا دی

پاکستان زندہ باد، عائشہ بلوچ نے ایشین گیمز 2026 کے فائنل میں بھارتی ریسلرکو دھول چٹا دی

سری لنکا میں جاری ایشین گیمز 2026 سے پاکستان کے لیے ایک انتہائی خوش آئند اور تاریخی خبر آئی ہے۔ پاکستان کی مایہ ناز خاتون ریسلر عائشہ بلوچ نے ریسلنگ کے فائنل مقابلے میں روایتی حریف بھارت کی کھلاڑی کو بدترین شکست دے کر ملک کے لیے گولڈ میڈل اپنے نام کر لیا ہے۔

فائنل مقابلے کے دوران عائشہ بلوچ کی تکنیکی برتری شروع سے ہی نمایاں رہی اور انہوں نے اپنے شاندار داؤ پیچ اور بہترین حکمتِ عملی کی بدولت بھارتی ریسلر کو میچ میں واپسی کا کوئی موقع نہیں دیا۔ بھارتی ریسلر ان کے مؤثر اور جارحانہ کھیل کا مقابلہ کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آئیں۔

بھارتی حریف کے خلاف اس فیصلہ کن اور تاریخی فتح کا اعلان ہوتے ہی عائشہ بلوچ نے میدان کے اندر ہی سجدۂ شکر ادا کیا، جس نے وہاں موجود شائقین کے دل جیت لیے۔ بعد ازاں میڈل دینے کی تقریب کے دوران جب وکٹری پوڈیم پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم فضا میں لہرایا گیا اور قومی ترانہ گونجا، تو عائشہ بلوچ نے پوری قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ اس تاریخی لمحے نے اسٹیڈیم میں موجود پاکستانیوں کو جھومنے پر مجبور کر دیا۔

ایشین گیمز 2026 کا انعقاد اس بار سری لنکا میں ہو رہا ہے، جہاں ایشیا بھر سے بہترین ایتھلیٹس حصہ لے رہے ہیں۔ پاکستان میں روایتی طور پر مردوں کی ریسلنگ یا ’دیسی کشتی‘ کو تو ہمیشہ مقبولیت حاصل رہی ہے، لیکن خواتین کے لیے اس کھیل میں آگے آنا اور بین الاقوامی سطح پر جگہ بنانا ہمیشہ سے ایک بہت بڑا چیلنج رہا ہے۔

مناسب تربیتی سہولیات، فنڈز کی کمی اور سماجی رکاوٹوں کے باوجود عائشہ بلوچ جیسی کھلاڑیوں نے اپنے عزم اور محدود وسائل کے ساتھ اس کھیل میں قدم رکھا۔

اس سے قبل پاکستان نے خواتین کے ریسلنگ زمرے میں بین الاقوامی سطح پر کوئی اتنا بڑا معرکہ سر نہیں کیا تھا، یہی وجہ ہے کہ سال 2026 کی یہ فتح پاکستان کی کھیلوں کی تاریخ کا ایک روشن ترین باب بن چکی ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگی۔

کھیلوں کے ذرائع کے مطابق عائشہ بلوچ نے فائنل تک پہنچنے کے لیے سیمی فائنل میں ازبکستان کی مضبوط ریسلر کو 5-2 سے شکست دی تھی، جبکہ فائنل میں انہوں نے بھارتی حریف کو میچ کے ابتدائی 3 منٹ کے اندر ہی تکنیکی بنیادوں پر 0-8کے واضح مارجن سے چت کر دیا۔

اس شاندار کامیابی کی خبر جیسے ہی پاکستان پہنچی، پورے ملک میں جشن کا سماں پیدا ہو گیا۔ صدرِ پاکستان اور وزیراعظم کی جانب سے عائشہ بلوچ کو مبارکباد کے خصوصی پیغامات بھیجے گئے ہیں۔

پاکستان اسپورٹس بورڈ نے عائشہ بلوچ کے لیے نقد انعام اور وطن واپسی پر ان کا شاندار سرکاری استقبال کرنے کا بھی اعلان کیا ہے، جبکہ ان کے آبائی علاقے میں مٹھائیاں تقسیم کی جا رہی ہیں۔

اگر اس تاریخی فتح کا باریک بینی سے کھیلوں اور سٹریٹجک تناظر میں تجزیہ کیا جائے تو یہ کامیابی صرف ایک میڈل تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ پاک بھارت کھیلوں کے مقابلے ہمیشہ سے ہی شدید اعصابی دباؤ کا پیش خیمہ ہوتے ہیں، اور ایسے بڑے فائنل میں بھارتی کھلاڑی کو یکطرفہ طور پر مات دینا عائشہ بلوچ کی ذہنی مضبوطی اور غیر معمولی فٹنس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

یہ فتح پاکستان کے کھیلوں کے مقتدر حلقوں کے لیے ایک آنکھیں کھولنے والا واقعہ بھی ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ اگر پاکستانی خواتین ایتھلیٹس کو مناسب کوچنگ اور بین الاقوامی معیار کی تربیت فراہم کی جائے، تو وہ دنیا کے کسی بھی فورم پر ملک کا نام روشن کر سکتی ہیں۔

اب وقت آ گیا ہے کہ اسپورٹس بجٹ کا ایک بڑا حصہ خواتین کے کھیلوں، بالخصوص مارشل آرٹس اور ریسلنگ کے لیے مختص کیا جائے تاکہ سال 2026 کی یہ انفرادی کامیابی ایک مستقل قومی روایت میں تبدیل ہو سکے۔

Exit mobile version