ایک برطانوی جریدے نے دعویٰ کیا ہے کہ روس نے ایران کو ایسے جدید ڈرونز فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی جنہیں الیکٹرانک جیمنگ کے ذریعے ناکارہ بنانا انتہائی مشکل ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ ڈرون آپٹک فائبر ٹیکنالوجی کے ذریعے کنٹرول کیے جاتے ہیں جس کے باعث روایتی الیکٹرانک مداخلت ان پر اثر انداز نہیں ہو پاتی۔
جریدے کا کہنا ہے کہ ان ڈرونز کو خلیج فارس سمیت مختلف علاقوں میں امریکی اور اتحادی افواج کے خلاف استعمال کیا جا سکتا تھا۔
برطانوی جریدے کے مطابق روسی انٹیلی جنس ادارے جی آر یو کے تیار کردہ مبینہ خفیہ منصوبے میں ایران کو پانچ ہزار شارٹ رینج ڈرونز فراہم کرنے کی تجویز شامل تھی جبکہ طویل فاصلے تک کارروائی کیلئے سیٹلائٹ گائیڈڈ سسٹمز کی بھی پیشکش کی گئی تھی۔
