پاکستان میں روسی سفیر البرٹ پی خورئیوف نے ایران، امریکہ تنازع کے دوران پاکستان کے ثالثی کے کردار کی حمایت کر دی،روسی سفیر کہتے ہیں کہ ہم اس تنازعہ کے پرامن حل میں دیگر اقدامات کی بھی حمایت کریں گے جو کہ واشنگٹن اور تہران دونوں کے تحفظات کو حل کر سکے ۔
منگل کے روز روسی سفارت جانے میں پریس کانفرنس کے دوران پاکستان میں روسی سفیر البرٹ پی خورئیوف نے ایران امریکہ تنازع کے دوران پاکستان کے ثالثی کے کردار کی حمایت کر دی، انہوں نے کہا کہ ہم امریکہ ایران تنازعہ میں پاکستان کے ثالثی کے کردار کی سپورٹ کرتے ہیں حال ہی میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروو نے بھی پاکستان کے ثالثی کے کردار کی حمایت کا اعادہ کیا تھا۔
اسی طرح ہم اس تنازعہ کے پرامن حل میں دیگر اقدامات کی بھی حمایت کریں گے جو کہ واشنگٹن اور تہران دونوں کے تحفظات کو حل کر سکیں انہوں نے روس کی جانب سے 2005 میں اقوامِ متحدہ میں “نازی ازم، نیو نازی ازم اور نسل پرستی کے فروغ کے خلاف” قرارداد میں پاکستان کی حمایت پر بھی شکریہ ادا کیا جس کی پاکستان سمیت 119 ممالک نے حمایت کی تھی۔
روسی سفیر نے شکوہ کیا کہ بدقسمتی سے پاکستانی میڈیا میں یوکرین کے انسانی نقصانات اور انفراسٹرکچر نقصانات پر بات کی جاتی ہے تاہم روس کے ایسے نقصانات بہت کم زیر بحث آتے ہیں، روسی سفیر نے واضح کیا کہ روس یوکرین جنگ میں جلد یا بدیر اپنے اہداف حاصل کرے گا اور روس ہر طرح کے حالات کے لئے تیار ہے۔
روسی سفیر نے کہا کہ روس کے لیے دوسری جنگ عظیم میں 9 مئی کا یومِ فتح سب سے مقدس قومی تہوار ہے کیونکہ اس روز سوویت عوام نے نازی جرمنی کو شکست دینے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا تاہم مختلف ممالک میں نازی ازم کے خلاف لڑنے والوں کی یادگاروں اور مجسموں کی بے حرمتی، توڑ پھوڑ اور انہدام پر اظہار تشویش کرتے ہیں ۔
یوکرین جنگ کے حوالے سے البرٹ پی خورئیوف کا کہنا تھا کہ روس نے یومِ فتح کے موقع پر 8 سے 11 مئی تک جنگ بندی کا اعلان اور اس پر عمل کیا تاہم روسی وزارتِ دفاع کے مطابق، یوکرینی افواج نے تین روزہ جنگ بندی کے دوران 30 ہزار سے زائد خلاف ورزیاں کیں یوکرینی صدر زیلنسکی امن کے بجائے جنگ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
یوکرینی محتسب کی 2025 کی رپورٹ میں یوکرینی فوج میں جبری بھرتی کے خلاف 6 ہزار سے زیادہ شکایات درج ہوئیں ، امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، پولینڈ اور دیگر نیٹو ممالک کے غیر ملکی جنگجو یوکرین کے ساتھ مل کر لڑ رہے ہیں، یورپی ممالک روس کو “اسٹریٹجک شکست” دینے کے لیے یوکرین کی مسلسل حمایت کر رہے ہیں۔
روسی سفیر نے نیدر لینڈز کے ’’سائتھیئن گولڈ‘‘ نامی تاریخی نوادرات کو کریمیا کی بجائے خئیوو کے حوالے کئے جانے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ کریمیا سے ملنے والے تمام تاریخی آثار واپس کریمیا کو ملنے چاہیں۔
روسی سفیر نے کہا کہ پاکستانی میڈیا میں پاکستان میں روس کی جانب سے روسی فوج کے لئے بھرتیوں کی رپورٹ کی تصدیق نہیں کر سکتے ،اس رپورٹ میں موجود باتیں متضاد تھیں جس بندے کی بھرتی کی بات کی گئی، اس نے روسی سفارت خانے میں ویزے کے لئے درخواست ہی نہیں دی معاملے کی تحقیقات پاکستانی متعلقہ ادارے کر رہے ہیں امید ہے جلد تحقیقات کے نتائج منظر عام پر آ جائیں گے۔
