روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اپنے 25ویں سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچ گئے ہیں، جہاں انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو ‘بے مثال سطح’ پر قرار دیا ہے۔ پیوٹن کا یہ دورہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین کے ٹھیک 4 دن بعد ہورہا ہے۔
ماہرین کے مطابق چند ہی دنوں میں دنیا کے 2 طاقتور ترین رہنماؤں کی میزبانی کرنا عالمی اسٹیج پر چین کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ اور اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ اور پیوٹن اب تک 40 سے زائد مرتبہ ملاقاتیں کرچکے ہیں۔
اس دورے کا ایک اہم مقصد امریکا کو یہ باور کرانا بھی ہے کہ چین کے پاس دیگر مضبوط اتحادی موجود ہیں۔ پیوٹن نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت اب امریکی ڈالر کے بجائے روبل اور یوآن میں ہورہی ہے، جو مغربی پابندیوں کے خلاف ایک بڑی کامیابی ہے۔
پیوٹن کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہورہا ہے جب یوکرین جنگ میں سست رفتاری اور اقتصادی مشکلات کے باعث روس کو اندرونی دباؤ کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے اس کا چین پر معاشی انحصار مسلسل بڑھتا جارہا ہے۔
مذاکرات کے دوران روس سے چین تک 2600 کلومیٹر طویل گیس پائپ لائن ‘پاور آف سائبیریا 2’ کی تعمیر پر بھی بات چیت متوقع ہے۔ یہ پائپ لائن چین کو توانائی کی فراہمی کے لیے آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، جو امریکا اور ایران کی جنگ کے باعث شدید متاثر ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے کے دوران صدر شی جن پنگ نے انہیں اپنی نجی رہائش گاہ کا دورہ کراتے ہوئے بتایا تھا کہ ولادیمیر پیوٹن ان چند رہنماؤں میں شامل ہیں جنہیں یہاں آنے کی دعوت دی گئی ہے، جس پر ٹرمپ نے ‘بہت خوب’ کہہ کر جواب دیا تھا۔
