ثناء یوسف قتل کیس میں عدالت نے ملزم عمر حیات کو سزائے موت سنا دی۔
فیصلے کے بعد ہم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ثناء یوسف کی والدہ نے کہا کہ وہ عدالتی فیصلے سے “بہت زیادہ مطمئن” ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء اور دیگر افراد نے اس مشکل وقت میں بھرپور ساتھ دیا۔
اس سے قبل کیس کی سماعت مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ سہ پہر 3 بجے سنانے کا کہا تھا جبکہ پراسیکیوشن نے ملزم کو سزائے موت دینے کی استدعا کی تھی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز ملزم عمر حیات نے صحتِ جرم سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس نے ثناء یوسف کے قتل کا نہ کوئی اعتراف کیا اور نہ ہی کوئی انکشاف کیا ہے۔
واضح رہے کہ ثناء یوسف کو 2 جون 2025 کو قتل کیا گیا تھا جبکہ دو روز بعد ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس نے آلہ قتل اور ثناء یوسف کا موبائل فون برآمد کرنے کا بھی دعویٰ کیا تھا۔
گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے سامنے پھول سے بچی کو گولیاں ماری گئیں معافی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ ابھی بھی بیٹی کا واقعہ یاد آتا ہے کہ دل پھٹ جاتا ہے، میں مر جاؤں گی بیٹی کے قاتل کو معاف نہیں کروں گی۔
مقتولہ کی والدہ نے کہا کہ میں گھر میں موجود تھی مجرم عمر حیات نے بیٹی کو سینے پر گولیاں ماریں، میری بیٹی کا دوستی سے منع کرنا جرم بن گیا۔
والد نے کہا کہ قاتل کی سزا پر عملدرآمد بتائے گا کہ یہ انسانوں کا معاشرہ ہے

Leave feedback about this