مرکزی تنظیم تاجران پاکستان نے اسمارٹ لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا پیٹرول کی قیمت 250 روپے فی لیٹر کرنے کا مطالبہ کردیا۔
تفصیلات کے مطابق مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر کاشف چوہدری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت اور بیوروکریسی کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس اور “پولیس وین کلچر” نے کاروبار تباہ کر دیا ہے، جبکہ تاجروں کو غیر ضروری دباؤ اور کارروائیوں کا سامنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے نام پر تاجروں کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے اور بازاروں میں سخت کارروائیاں کی جا رہی ہیں، شام 8 بجے پولیس بازاروں میں اسرائیلی فوج کی طرح چڑھائی کرتی ہے۔
کاشف چوہدری نے الزام عائد کیا کہ ملک میں ریگولیٹری اداروں کے ذریعے تاجروں کا استحصال کیا جا رہا ہے، جبکہ بجلی اور پیٹرول کی قیمتیں بھی عوام اور کاروباری طبقے کے لیے ناقابل برداشت ہیں۔
تاجر رہنما کا کہنا تھا کہ آئی پی پیز کے ذریعے قوم کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جارہا ہے، پاکستان میں پیٹرول 246 روپے میں پڑتا ہے اور 400 میں دیا جا رہا ہے، حکومت پیٹرول کی قیمت 250 روپے فی لیٹر تک لائے۔
انہوں نے کہا کہ تاجر برادری ملک میں 21 قسم کے ٹیکس ادا کر رہی ہے اور ٹیکس نظام کو آسان بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ انکم ٹیکس ریٹرن فارم کو سادہ بنایا جائے اور فکسڈ ٹیکس نظام نافذ کیا جائے۔
مزید کہا گیا کہ بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فوری کمی کی جائے جبکہ آئی پی پیز کے کیپسٹی چارجز اور کارپوریٹ ٹیکس ختم کیے جائیں۔
پاکستان میں سمارٹ لاک ڈاؤن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی فوری طور پر ختم کی جائے، ورنہ تاجر برادری خود اپنے فیصلے کرے گی۔
انہوں نے اعلان کیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو تین دن بعد سمارٹ لاک ڈاؤن خود ختم کر دیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔
