امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی کے درمیان دیرینہ تعلقات میں دراڑ آگئی ہے، صدر ٹرمپ نے میلونی پر بزدلی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے واشنگٹن کو مایوس کیا ہے۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھی جب جارجیا میلونی نے پوپ لیو پر صدر ٹرمپ کے حالیہ حملے کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے ان کی کھلی مذمت کی۔
جس کے بعد منگل کے روز ایک اطالوی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے اپنی قریبی یورپی اتحادی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جارجیا میلونی میری توقعات سے بالکل مختلف ثابت ہوئی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ میرا خیال تھا کہ ان میں حوصلہ ہے لیکن میں غلط تھا، اور ان کا رویہ دیکھ کر مجھے صدمہ پہنچا ہے۔
اطالوی وزیراعظم میلونی صدر ٹرمپ کی بڑی حامی سمجھی جاتی تھیں لیکن فروری میں ایران کے خلاف شروع ہونے والی امریکی جنگ نے دونوں کے درمیان فاصلے پیدا کر دیے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اطالوی اخبار ’کوریری ڈیلا سیرا‘ سے گفتگو میں غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میلونی نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے میں مدد دینے سے انکار کیا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق اطالوی وزیر اعظم چاہتی ہیں کہ امریکا ان کے حصے کا خود کرے۔
دوسری جانب اطالوی سیاست دان اپنی وزیر اعظم کے حق میں کھڑے ہو گئے ہیں۔
اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے جارجیا میلونی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ہم مغربی اتحاد کے سچے حامی اور امریکا کے پکے اتحادی ہیں لیکن یہ اتحاد وفاداری، احترام اور باہمی سچائی پر قائم ہوتا ہے۔
انہوں نے پوپ لیو پر تنقید کے خلاف میلونی کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پوپ کے بارے میں انہوں نے وہی کہا ہے جو تمام اطالوی شہری سوچتے ہیں۔
اٹلی میں ایران کے خلاف جنگ عوامی سطح پر بھی غیر مقبول ہے کیونکہ اس کی وجہ سے توانائی کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہو رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے انٹرویو کے دوران جارجیا میلونی کے اس بیان پر بھی جوابی وار کیا جس میں انہوں نے پوپ کا دفاع کیا تھا۔
ٹرمپ نے کہا کہ دراصل جارجیا میلونی کا اپنا رویہ ناقابلِ قبول ہے کیونکہ انہیں اس بات کی پرواہ نہیں کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہو سکتے ہیں جو موقع ملنے پر اٹلی کو دو منٹ میں تباہ کر دیں گے۔
انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ اٹلی دنیا میں توانائی کی سب سے زیادہ قیمتیں ادا کر رہا ہے لیکن وہ آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیے لڑنے کو تیار نہیں اور اس کے لیے وہ ڈونلڈ ٹرمپ پر انحصار کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ اٹلی نے گزشتہ ماہ امریکی لڑاکا طیاروں کو سسلی کا فضائی اڈہ ایران کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا اور اب اسرائیل کے ساتھ فوجی تعاون کا معاہدہ بھی معطل کر دیا ہے۔
یہ صورتحال جارجیا میلونی کے لیے سیاسی طور پر بھی مشکل ثابت ہو رہی ہے کیونکہ وہ حالیہ عرصے میں داخلی سطح پر ریفرنڈم میں ناکامی کا سامنا کر چکی ہیں۔
وائٹ ہاؤس اور میلونی کے دفتر نے فی الحال ان بیانات پر باضابطہ تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، لیکن ماہرین اسے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک بڑے دھچکے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
اطالوی وزیراعظم نے ٹرمپ کو الزام کا جواب دیدیا
اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ الزامات اور تنقید پر اپنا ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اٹلی اپنی خارجہ پالیسی صرف قومی مفاد اور بین الاقوامی قانون کے مطابق چلاتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی ملک کے ساتھ تعلقات یا اختلافات میں اٹلی کی پالیسی خودمختار اور اصولی ہے، اور وہ کسی بیرونی دباؤ میں فیصلے نہیں کرے گا۔ میلونی نے زور دیا کہ یورپی اتحاد اور عالمی امن کے لیے ذمہ دارانہ رویہ اپنانا ضروری ہے۔
یاد رہے کہ ٹرمپ نے ایران اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر اٹلی کے بعض فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے میلونی کو ہدف بنایا تھا، جس کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
