روس کی وزارتِ خارجہ نے امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے ’بڑی شکست‘ قرار دے دیا ہے اور فوری طور پر سفارتی حل پر زور دیا ہے
روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف یکطرفہ، جارحانہ اور بلا اشتعال حملہ شروع کیا، جس کا نتیجہ ایک بدترین اور کچل دینے والی شکست کی صورت میں سامنے آیا۔
انہوں نے روسی ریڈیو اسپوٹنک سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روس نے ابتدا ہی سے واضح کیا تھا کہ اس تنازع کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں اور خطے میں طاقت کے ذریعے امن قائم کرنے کی کوششیں ناکام ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کرتے ہیں۔
ماریا زاخارووا نے زور دیا کہ صورتحال کو فوری طور پر قابو میں لانے کے لیے حقیقی سیاسی اور سفارتی عمل کا آغاز ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے ذریعے ہی پائیدار حل ممکن ہے، جس میں تمام فریقین کے مؤقف کو سنجیدگی سے مدنظر رکھا جائے۔
روسی حکام کے اس بیان کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر عالمی سطح پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے، جہاں مختلف ممالک جنگ بندی اور مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر زور دے رہے ہیں۔

Leave feedback about this