ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے بعد عالمی تجارت کے لیے خوشخبری سامنے آئی ہے۔
میری ٹائم مانیٹر میرین ٹریفک کے مطابق، سیز فائر کے اعلان کے فوراً بعد آبنائے ہرمز سے 2 بڑے بحری جہاز کامیابی سے گزر گئے ہیں۔ ان جہازوں کا تعلق یونان اور لائبیریا سے بتایا جا رہا ہے۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اگرچہ سیز فائر ہو چکا ہے لیکن ابھی بھی آبنائے ہرمز میں جہازوں کی نقل و حرکت کافی کم ہے۔
شپنگ ڈیٹا کے مطابق سمندری راستوں پر ابھی وہ گہما گہمی نظر نہیں آ رہی جو عام حالات میں ہوتی ہے، جس کی بڑی وجہ جہاز رانی کمپنیوں کا محتاط رویہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سیز فائر پہلا قدم ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ کمرشل شپنگ فوری طور پر نارمل ہو جائے گی۔جہازوں کے مالکان اس وقت سیکیورٹی چینلز اور انشورنس کمپنیوں کی جانب سے گرین سگنل کے منتظر ہیں، تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔
یاد رہے کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد سے اب تک اس حساس علاقے میں 19 بحری ویسلز کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی جہاز رانی کی صنعت ابھی تک پوری طرح اس راستے پر بھروسہ کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔
اس وقت تقریباً 800 جہاز اس اہم ترین بحری راستے سے گزرنے کے لیے اپنی باری کے منتظر ہیں۔ اگر یہ آمدورفت مکمل طور پر بحال ہو جاتی ہے تو عالمی مارکیٹ میں تیل کی ترسیل بہتر ہوگی اور قیمتوں میں کمی کا امکان پیدا ہو جائے گا۔

Leave feedback about this