تازہ ترین معیشت و تجارت

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق اہم خبر

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق اہم خبر

عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے ریکارڈ سطح تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

 مشرق وسطیٰ میں کشیدہ صورتحال اور ایران جنگ کے اثرات عالمی منڈی پر نمایاں ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ اس عالمی صورتحال کے براہ راست اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوں گے اور آئندہ دنوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اور تاریخی اضافہ متوقع ہے۔

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 75 روپے فی لیٹر تک اضافہ ہو سکتا ہے، اس اضافے کے بعد پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں ملک کی تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو سکتی ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ اس حوالے سے اوگرا آئندہ دو روز کے اندر اپنی ورکنگ تیار کر کے پٹرولیم ڈویژن کو ارسال کرے گا، جس کے بعد قیمتوں میں رد و بدل سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا، ذرائع کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری وزیراعظم شہباز شریف دیں گے۔

حکومتی سطح پر مختلف تجاویز بھی زیر غور ہیں، جن میں قیمتوں میں ایک ہی بار بڑا اضافہ کرنے کے بجائے دو مرحلوں میں اضافہ کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ یہ امکان بھی موجود ہے کہ حکومت سبسڈی دے کر قیمتوں کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کی کوشش کرے۔

یاد رہے کہ ایران جنگ کے بعد 7 مارچ کو حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا تھا، جس کے بعد پٹرول کی قیمت 321 روپے 17 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت 335 روپے 86 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی تھی۔

اوگرا کی جانب سے گزشتہ ہفتے بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی سمری ارسال کی گئی تھی، تاہم حکومت نے اس وقت قیمتوں کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا، البتہ مٹی کے تیل کی قیمت میں 70 روپے 73 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا جبکہ ہائی اوکٹین پر 200 روپے فی لیٹر لیوی عائد کی گئی۔

Leave feedback about this

  • Quality
  • Price
  • Service

PROS

+
Add Field

CONS

+
Add Field
Choose Image