بین الاقوامی خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ خام تیل سے لدا ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز عبور کرکے پاکستان کی جانب روانہ ہوگیا ہے۔
بلوم برگ نے پیر کو ایک رپورٹ میں جہازوں کی نقل و حرکت کے ڈیٹا کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کے زیرِ کنٹرول آئل ٹینکر ’کراچی‘ نے اتوار کے روز خطرات سے بھرپور سفر کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو عبور کیا۔
رپورٹ کے مطابق پیر کی صبح پاکستان کے پرچم بردار ’افرا میکس‘ ٹینکر کو عمان کے شہر صحار کے قریب سمندری حدود میں دیکھا گیا۔
بلوم برگ کے مطابق پی این ایس سی اور پاکستان کی وزارتِ پیٹرولیم نے اس حوالے سے تبصرے کی درخواست اور سوالات پر فوری ردعمل نہیں دیا۔
شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق 2022 میں تیار کیا گیا آئل ٹینکر کراچی آبنائے ہرمز عبور کرتے ہوئے ایران کے جزیرے لارک کے اطراف سے گزرا، بعد ازاں یہ ایران کے ساحل کے قریب مشرق کی جانب سفر کرتا رہا اور اتوار کی شام آبنائے ہرمز عبور کر گیا۔
واضح رہے کہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد خام تیل اور ایل این جی کی ترسیل آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے۔
ایران کی جانب سے امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے ردعمل میں امریکا اور اتحادیوں کو معاشی نقصان پہنچانے کی کوششوں کے باعث اس تنگ آبی گزرگاہ میں نقل و حرکت محدود ہو چکی ہے۔
ایرانی حکام نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے امریکی اور اتحادی ممالک کے جہازوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کر رکھا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ دوست ممالک کے تجارتی جہازوں کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔
اس آبی گزرگاہ کی بندش اور جہازوں پر حملوں کے خوف کے باعث اس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین سمیت اتحادی ممالک پر آبنائے ہرمز پر جہازوں کی آمد و رفت بحالی کے لیے حمایت کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں تاہم ابھی تک کسی ملک نے حمایت کا اعلان نہیں کیا ہے۔
برطانیہ، جرمنی، آسٹریلیا اور جاپان نے بھی اس معاملے میں محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے فوجی معاونت سے گریز کیا ہے۔

Leave feedback about this