برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے واضح کیا ہے کہ برطانیہ ایران کے خلاف جاری کسی بھی ممکنہ جنگ میں براہِ راست حصہ نہیں لے گا۔ وزیراعظم نے پیر کے روز مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور امن قائم رکھنے کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرے گا، تاہم ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی میں شامل نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے کہا کہ آبنائے ہرمز کھولنا کوئی آسان کام نہیں، اور برطانیہ سمندری آمد و رفت کے تحفظ کے لیے تمام اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پیوٹن کو ایران جنگ سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
وزیراعظم کی بریفنگ کے مطابق اب تک 92 ہزار سے زائد برطانوی شہری کمرشل اور سرکاری چارٹر پروازوں کے ذریعے وطن واپس آ چکے ہیں، اور برطانیہ کی سب سے بڑی ترجیح اپنے شہریوں کا تحفظ ہے۔ لبنان میں موجود برطانوی شہریوں کی مدد کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔
کیئر اسٹارمر نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کی ضرورت ہے اور برطانیہ کشیدگی کم کرنے اور امن قائم رکھنے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔

Leave feedback about this