اسرائیل نے ایران کو ’وجودی خطرہ‘ قرار دیا جبکہ امریکا نے دعویٰ کیا کہ ایران خصوصاً اپنی تیز رفتاری سے بڑھتی ہوئی بیلسٹک میزائل صلاحیتوں کی وجہ سے اس کی سرزمین کے لیے ’فوری خطرہ‘ ہے۔ اسرائیل اور امریکا دونوں ایران کو تر نوالہ سمجھ رہے تھے لیکن ان کے سارے اندازے غلط ثابت ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق اسی وجہ سے 28 فروری کو دونوں ممالک نے ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہوئے ایک پیشگی فضائی مہم چلائی اور اطلاعاتی کارروائی کے تحت ایران کی اعلیٰ قیادت کو بھی ہدف بنایا۔ اس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت سب سے بڑا مقصد تھی۔
توقع کی جا رہی تھی کہ یہ مہم ایران کو چند دنوں میں دباؤ میں لے آئے گی اس کی سیاسی اور عسکری قیادت کو ختم کرے گی اور جلد از جلد حکومت کی تبدیلی ممکن بنائے گی۔
لیکن صرف 4 دن میں جو کچھ ہوا اس نے عالمی برادری کو حیران کر دیا اور امریکی و اسرائیلی جنرلز کی سب سے بڑی توقعات سے کہیں بڑھ کر نتائج سامنے آئے۔
ایرانی جوابی حملہ متوازن اور شدید تھا اور اس نے امریکا اور اسرائیل کی طاقتور افواج کی پرواہ کیے بغیر مزاحمت کی۔ سپریم لیڈر اور 40 سے زائد اعلیٰ جنرلز کی ہلاکت ایران کو شکست دینے کی بجائے اپنی مزاحمت میں مزید پختہ کر گئی۔
یہ جنگ بنیادی طور پر میزائل، ڈرون اور لڑاکا طیاروں کے ذریعے ہو رہی ہے۔
امریکی پیٹریاٹ اور ٹومہاؤک میزائل کی قیمت 1-3 ملین ڈالر فی ہتھیار ہے، جبکہ ایرانی بیلسٹک میزائل کی قیمت محض 8 لاکھ سے 1 ملین ڈالر کے درمیان ہے۔ اسی طرح MQ-9 Reaper ڈرون کی قیمت 30 ملین ڈالر ہے جبکہ ایران کے شاہد ڈرون کی قیمت صرف 30-50 ہزار ڈالر ہے۔ اس قیمت کے فرق کی وجہ سے امریکہ اور اسرائیل کو نہ صرف مالی نقصان ہو رہا ہے بلکہ ہر ہفتے ہزاروں ہتھیاروں کی ضرورت پوری کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔
صرف 4 دن کی لڑائی میں پیٹریاٹ اور ٹومہاؤک میزائلز کے ذخائر کم پڑنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ہر ایرانی میزائل کے لیے 4 سے 6 انٹرسپٹر میزائل فائر کیے جاتے ہیں، اور 150-200 انٹرسپٹرز پہلے ہی استعمال ہو چکے ہیں۔ اگر لڑائی مزید شدت اختیار کرتی ہے تو ذخائر ختم ہونے کا امکان بڑھ جائے گا۔ ایران کے پاس ہزاروں میزائلز اور ڈرونز موجود ہیں، جنہیں پہاڑوں کے اندر محفوظ رکھا گیا ہے تاکہ امریکی حملے انہیں نقصان نہ پہنچا سکیں۔
جنگ کی انسانی لاگت بھی اہم ہے اور مزید جانی نقصان کی توقع ہے خاص طور پر جب ایرانی میزائل امریکی اور اسرائیلی فوجی اڈوں، سفارت خانوں اور ہائی ویلیو اہداف کو ہدف بنا رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ اور وزیراعظم نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل بھی اس جنگ سے جڑا ہے۔ ٹرمپ کو وسط مدتی انتخابات میں اپنی رائے شماری بڑھانے کے لیے یہ جنگ اہم ہے، جبکہ نیتن یاہو انتخابات کے دوران اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
خلیج کے ممالک نے برسوں تک امریکی ضمانتوں کے تحت اپنی سیکیورٹی حاصل کی لیکن ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں نے یہ تصور چیلنج کر دیا ہے
بحرین، قطر، کویت، عراق، یو اے ای، اردن اور عمان کے اہم فوجی اڈے اور سفارت خانے متاثر ہوئے اور اس سے عالمی توانائی کی فراہمی پر بھی خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
جنگ کا پہلا ہفتہ ہی گزر گیا ہے لیکن حالات توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے بدل گئے ہیں۔
ایران، جسے فضائی حملوں اور سپریم لیڈر کی ہلاکت کا سامنا کرنا پڑا اب بھی نہیں جھک رہا بلکہ اپنی حکمت عملی کے ذریعے اسرائیل اور امریکا کو مالی اور عسکری چیلنجز میں مبتلا کر رہا ہے جو آئندہ دنوں میں ناقابل برداشت ہو سکتے ہیں۔
اس مختصر جائزے سے واضح ہوتا ہے کہ ایران نے صرف 47 دن میں ایک محدود وسائل کے باوجود امریکا اور اسرائیل کی مہنگی اور طاقتور فوجی صلاحیتوں کو حیران کن انداز میں چیلنج کر دیا ہے۔

Leave feedback about this