چین نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید کشیدگی پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر سکتی ہے۔
چین کی وزارت خارجہ نے جاری بیان میں حملوں پر “گہری تشویش” کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے۔ بیان میں تمام فریقین پر زور دیا گیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، کشیدگی میں اضافہ نہ کریں اور مذاکرات و مکالمے کی طرف واپس آئیں۔
امریکہ اور اسرائیل نے ہفتے کو ایران کی عسکری صلاحیت کو نشانہ بناتے ہوئے حملے کیے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اس کارروائی میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہو گئے۔
اتوار کو چین نے خطے میں موجود اپنے شہریوں کے لیے سفری ہدایات جاری کیں۔ اسرائیل میں قائم چینی سفارت خانے نے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے یا ممکن ہو تو مصر جانے کے لیے طابا بارڈر کراسنگ استعمال کرنے کی ہدایت کی۔ وزارت خارجہ نے ایران میں موجود چینی شہریوں کو بھی “جلد از جلد” ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا اور زمینی راستوں کے طور پر آذربائیجان، آرمینیا، ترکی اور عراق کی نشاندہی کی۔
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اپنے تبصرے میں حملے کو “خودمختار ریاست کے خلاف کھلی جارحیت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی ضابطوں کی خلاف ورزی ہے۔
دوسری جانب خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث ہوا بازی کا شعبہ بھی متاثر ہوا ہے۔ ہانگ کانگ میں قائم فضائی کمپنی کیتھے پیسیفک ایئرویز نے مشرق وسطیٰ کے لیے اپنی پروازیں معطل کر دیں۔ معطلی کا اطلاق دبئی اور ریاض جانے اور وہاں سے آنے والی مسافر پروازوں کے ساتھ ساتھ دبئی کے المکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے گزرنے والی کارگو سروسز پر بھی ہوگا۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ متاثرہ فضائی حدود سے گزرنے والی پروازوں کے راستے تبدیل کیے جا رہے ہیں، جبکہ ایئر لائنز مجموعی سکیورٹی صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہی ہیں۔

Leave feedback about this