طورخم: پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باعث ضلع خیبر میں طورخم بارڈر کراسنگ سے افغان مہاجرین کی وطن واپسی کا عمل معطل کر دیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق پاک افغان سرحدی مقامات پر کشیدگی کے باعث طورخم بارڈر کے ذریعے افغان مہاجرین کی وطن واپسی کا عمل عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق سرحدی صورتحال کشیدہ ہونے کے بعد نقل و حرکت روک دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان فورسز کی فائرنگ کے باعث طورخم بارڈر کراسنگ ٹرمینل پر کھڑی افغان مہاجرین کی درجنوں گاڑیوں کو کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے احتیاطی طور پر گزشتہ رات لنڈی کوتل منتقل کردیا گیا۔
حکام کے مطابق حالات معمول پر آنے تک وطن واپسی کا عمل معطل رہے گا۔
طورخم بارڈر کے ذریعے روزانہ سینکڑوں افغان خاندان اپنے وطن واپس آتے ہیں تاہم موجودہ کشیدگی کے باعث یہ سلسلہ عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔
دریں اثنا، یو این ایچ سی آر پاکستان کے ترجمان قیصر خان آفریدی کے مطابق پاکستان میں مقیم 20 لاکھ سے زائد افغان شہری گزشتہ ڈھائی سالوں میں رضاکارانہ طور پر اپنے ملک واپس جا چکے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور صورتحال بہتر ہوتے ہی واپسی کا عمل دوبارہ شروع کر دیا جائے گا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان فورسز کی جانب سے گزشتہ شام پاکستانی چیک پوسٹوں پر بلا اشتعال فائرنگ کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی اور رات بھر جھڑپیں جاری رہیں۔ پاکستانی فورسز نے افغان طالبان کے حملوں کا بھرپور جواب دیا اور متعدد چیک پوسٹوں کو تباہ کر دیا۔

Leave feedback about this