انقرہ: نئے وزیر انصاف کی تقرری پر ترک پارلیمنٹ میں زبردست ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی، حکومتی اور اپوزیشن ارکان آمنے سامنے آگئے اور صورتحال ہاتھا پائی تک پہنچ گئی۔
اطلاعات کے مطابق اکین گرلیگ کو وزیر انصاف بنائے جانے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے ایوان میں شدید احتجاج کیا۔ اپوزیشن ارکان نے تقرری کو متنازعہ قرار دیتے ہوئے نہ صرف نعرے لگائے بلکہ بعض ارکان کو دھکے بھی مارے۔ اس دوران ایک دوسرے پر گھونسوں اور لاتیں مارنے کی خبریں آئیں۔
اپوزیشن کا موقف ہے کہ اکین گرلیگ کی نامزدگی غیر جانبدارانہ نہیں ہے، کیونکہ وہ ماضی میں بطور چیف پراسیکیوٹر اپوزیشن کے خلاف کارروائیوں کی نگرانی کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے پس منظر کے حامل شخص کو وزارت انصاف میں تعینات کرنے سے سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب حکومتی ارکان نے صدر رجب طیب اردگان کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اکینچی گرلیگ نے ماضی میں قانون کے اندر رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں نبھائی ہیں اور ان کی تقرری آئینی تقاضوں کے مطابق تھی۔
پارلیمنٹ میں ہونے والے ہنگامے نے ملکی سیاست میں جاری تناؤ کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔

Leave feedback about this