پاکستان تازہ ترین

فنڈز کہاں گئے؟ 14 سال کی ناکامی پر عابد شیر علی خیبرپختونخوا حکومت پر پھٹ پڑے،اہم راز افشا کردیے

فنڈز کہاں گئے؟ 14 سال کی ناکامی پر عابد شیر علی خیبرپختونخوا حکومت پر پھٹ پڑے،اہم راز افشا کردیے

14 سال کی ناکامی اور فنڈز کی کھوج! عابد شیر علی نے سینیٹ میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو عوام کے سامنے جوابدہ کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹر عابد شیر علی نے سینیٹ میں خیبرپختونخوا حکومت پر زوردار تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف اقدامات میں صوبائی حکومت 14 سال سے ناکام رہی ہے۔ عابد شیر علی نے سوال اٹھایا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت دیے گئے فنڈز کہاں گئے اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو کیا عوام کے سامنے جوابدہ ہونا چاہیے؟

سینیٹر عابد شیر علی نے اپنے اظہار خیال میں کہا کہ سانحہ اے پی ایس کے وقت بھی خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت تھی، اور آج بھی مسلح افواج پر دہشتگرد حملوں کے وقت وہی حکومت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے امن عامہ کے بجائے تمام وسائل ایک بندے کے لیے وقف کر دیے ہیں۔

عابد شیر علی نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی میراتھن کو مثال کے طور پر بیان کیا، کہا کہ یہ دوڑ پشاور سے شروع ہو کر اڈیالہ پر ختم ہوتی ہے، اور وزیراعلیٰ دوڑ کے بعد پنجاب اور سندھ میں جا کر تماشا لگانے لگتے ہیں۔ ان کے مطابق، دہشتگرد افغانستان سے آ کر فوج پر حملہ کرتے ہیں اور وزیراعلیٰ کے بعض بیانات ان کے حق میں نظر آتے ہیں۔

سینیٹر نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں چہیتوں کو اونے پونے زمینیں الاٹ کی گئی ہیں اور ملک میں بدتہذیبی کا ماحول قائم ہوا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کیا مائیں اور بہنیں صرف کسی ایک کی ہیں اور کسی اور کی نہیں؟

اپنی تقریر کے دوران جب پی ٹی آئی کے ارکان نے مداخلت کی، تو عابد شیر علی نے سخت لہجے میں کہا: “میرا نام عابد شیر علی ہے، یاد رکھنا! کہاں ہیں وہ فنڈز جو خیبرپختونخوا حکومت کو دہشتگردی کے خاتمے کے لیے دیے گئے؟”

عابد شیر علی کی تقریر نے سینیٹ میں سنسنی پیدا کر دی اور خیبرپختونخوا حکومت کی 14 سالہ کارکردگی پر شدید سوالات اٹھا دیے ہیں، جس سے صوبائی حکومت کی ناکامی اور عوامی تحفظات سامنے آ گئے ہیں۔

Leave feedback about this

  • Quality
  • Price
  • Service

PROS

+
Add Field

CONS

+
Add Field
Choose Image