عشرت فاطمہ نے ریڈیو پاکستان کیوں چھوڑا؟ معروف اینکر کا جذباتی ویڈیو بیان وائرل پاکستان Roze News
پاکستان تازہ ترین

عشرت فاطمہ نے ریڈیو پاکستان کیوں چھوڑا؟ معروف اینکر کا جذباتی ویڈیو بیان وائرل

عشرت فاطمہ نے ریڈیو پاکستان کیوں چھوڑا؟ معروف اینکر کا جذباتی ویڈیو بیان وائرل

عشرت فاطمہ نے ریڈیو پاکستان کیوں چھوڑا؟ معروف اینکر کا جذباتی ویڈیو بیان وائرل

پاکستان کے سرکاری نشریاتی اداروں پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان سے وابستہ معروف سینئر براڈکاسٹر عشرت فاطمہ نے ریڈیو پاکستان سے علیحدگی پر پہلی مرتبہ تفصیل سے گفتگو کرتے ہوئے کئی تلخ حقائق بیان کیے ہیں۔
انہوں نے اس فیصلے کو اپنی زندگی کا نہایت کٹھن اور دردناک مرحلہ قرار دیا اور کہا کہ جس ادارے کو وہ برسوں تک اپنا پیشہ ورانہ گھر اور پہلی محبت سمجھتی رہیں، وہی ادارہ وقت کے ساتھ ان کے لیے بے حس دیواروں میں بدل گیا۔
سوشل میڈیا پر جاری ایک طویل ویڈیو میں عشرت فاطمہ جذباتی انداز میں کہتی ہیں کہ جب کوئی شخص پوری دیانت داری اور خلوص کے ساتھ اپنا کام انجام دے رہا ہو، مگر اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر دی جائیں، اسے مسلسل نظرانداز کیا جائے اور یہ احساس دلایا جائے کہ اب اس کی ضرورت باقی نہیں رہی، تو ایسے حالات میں فیصلہ کرنا انتہائی اذیت ناک ہو جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب آپ کسی کا مقابلہ کام سے نہیں کر سکتے تو پھر منفی ہتھکنڈے اختیار کیے جاتے ہیں۔ انسان سے اس کی زندگی، اس کی سانسیں اور وہ جگہ چھیننے کی کوشش کی جاتی ہے جہاں بیٹھ کر وہ اپنا کام کرتا ہے۔
عشرت فاطمہ نے بتایا کہ وہ طویل عرصے تک اس امید پر صبر کرتی رہیں کہ حالات بدلیں گے، انہیں میرٹ کی بنیاد پر کام کرنے کا موقع ملے گا اور بطور ایک سینئر اور ’’لیجنڈ‘‘ براڈکاسٹر انہیں وہ عزت اور مقام دیا جائے گا جس کی وہ حقدار ہیں، مگر یہ امید پوری نہ ہو سکی۔
ان کے مطابق انہیں بار بار بالواسطہ طور پر یہ پیغام دیا جاتا رہا کہ اب ادارے کو ان کی خدمات درکار نہیں، جس کے بعد انہوں نے انتہائی بھاری دل کے ساتھ استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ استعفے کے بعد پیش آنے والے واقعات نے ان کے اس فیصلے کو مزید درست ثابت کر دیا۔
بات کرتے ہوئے وہ آبدیدہ ہو گئیں اور کہا کہ آج بھی ان کی آواز، سانس، تلفظ اور پیشہ ورانہ صلاحیت مکمل طور پر درست ہے، وہ وقت کی پابند ہیں اور اپنے کام سے بے حد محبت کرتی ہیں، مگر اس سب کے باوجود وہ آج گھر بیٹھی ہیں اور کسی بھی ادارے میں پیشہ ورانہ طور پر متحرک نہیں۔
انہوں نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ ممکن ہے لوگ ان کی ویڈیو کا مذاق اڑائیں یا ان کے الفاظ کو توڑ مروڑ کر پیش کریں، مگر ان کی خواہش صرف یہ ہے کہ کوئی ان کے درد، کرب اور جذبات کو سمجھنے کی کوشش کرے۔
عشرت فاطمہ کا کہنا تھا کہ ریڈیو پاکستان نے انہیں پہچان، عزت اور مقام ضرور دیا، مگر بطور ادارہ وہ احساس اور ہمدردی سے محروم ہے۔ ان کے بقول،
“ادارہ دراصل در و دیوار، مائیک، کیمرے اور راہداریوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ یہ محسوس نہیں کرتا، محبت نہیں کرتا۔ اگر یہ محسوس کر سکتا تو شاید مجھے روک لیتا، گلے لگا لیتا اور میں رک جاتی۔”
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے 1983 میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور 1984 سے باقاعدہ خبروں کی قرأت شروع کی۔ ان کے مطابق بولنا، الفاظ سے کھیلنا اور اپنی آواز کے ذریعے عوام تک سچ پہنچانا ان کے لیے صرف روزگار نہیں بلکہ ایک عشق رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہی پیشہ ان کے لیے ذریعۂ معاش بنا، جس سے انہوں نے اپنے بچوں کی پرورش کی، مگر اصل تسکین انہیں ہمیشہ اپنے کام کے معیار اور ذمہ داری سے انصاف کرنے میں ہی حاصل ہوئی۔

Exit mobile version