تازہ ترین دنیا معیشت و تجارت

ایرانی ٹماٹر آنے کے بعد قیمتوں میں کمی آئی یا نہیں؟ تازہ صورتحال سامنے آگئی

ایرانی ٹماٹر آنے کے بعد قیمتوں میں کمی آئی یا نہیں؟ تازہ صورتحال سامنے آگئی

ایرانی ٹماٹروں کی آمد کے باوجود قیمتوں میں کمی نہ آسکی، کراچی میں ٹماٹر 500 روپے فی کلو تک پہنچ گئے۔

ایرانی ٹماٹروں کی درآمد کے باوجود کراچی کے شہریوں کو مہنگائی سے ریلیف نہ مل سکا، بلکہ شہر میں ٹماٹر کی قیمت مزید بڑھ کر 450 سے 500 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔ مہنگے داموں فروخت ہونے والے ٹماٹر عوام کی قوتِ خرید سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق پرچون فروش بلوچستان سے آنے والے مقامی ٹماٹر بھی ایرانی ٹماٹروں کے برابر قیمت پر فروخت کر رہے ہیں۔ اس وقت متعدد دکانوں پر ایرانی اور بلوچستان کے ٹماٹر 450 سے 500 روپے فی کلو یا 110 سے 125 روپے فی پاؤ (250 گرام) کے حساب سے فروخت کیے جا رہے ہیں، جبکہ نسبتاً چھوٹے یا کچے ٹماٹر 400 روپے فی کلو میں دستیاب ہیں۔

تاجروں کا کہنا ہے کہ بیشتر دکاندار ایرانی ٹماٹر فروخت کرنے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ یہ مقامی ٹماٹروں کے مقابلے میں جلد نرم ہو جاتے ہیں اور خراب ہونے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے۔ ان کے مطابق ذائقے کے اعتبار سے بھی ایرانی ٹماٹر سندھ اور بلوچستان کے ٹماٹروں سے مختلف ہیں۔

مہنگائی کے باعث خریداروں نے بھی خریداری محدود کر دی ہے۔ دکانداروں کے مطابق 50 سے 60 روپے میں اب صرف دو سے تین چھوٹے ٹماٹر ہی خریدے جا سکتے ہیں، جس سے عام شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق رواں ماہ کے آغاز میں ٹماٹر کی قیمت 300 روپے فی کلو سے زائد تھی، جبکہ جون کے تیسرے ہفتے میں یہی قیمت 120 سے 160 روپے فی کلو اور اپریل میں 80 سے 100 روپے فی کلو کے درمیان رہی تھی، جس سے حالیہ اضافے کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

ٹماٹر کے کاشتکار اور کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (KCCI) کے سابق نائب صدر یونس سومرو کے مطابق ایران سے روزانہ اوسطاً صرف 10 کنٹینرز ٹماٹر پاکستان پہنچ رہے ہیں، جو ملکی طلب پوری کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی پہنچنے تک تقریباً 30 فیصد ایرانی ٹماٹر خراب ہو چکے ہوتے ہیں، جبکہ ان کا معیار اور ذائقہ بھی مقامی فصل جیسا نہیں ہوتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ملکی طلب پوری کرنے کے لیے بنیادی انحصار بلوچستان کی فصل پر ہے، جو ضرورت کے مقابلے میں ناکافی ثابت ہو رہی ہے۔ سندھ میں نئی فصل کی کاشت شروع ہو چکی ہے، تاہم اس کی پیداوار ستمبر کے وسط تک مارکیٹ میں آنے کی توقع ہے، جس کے بعد قیمتوں میں کمی کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔

Leave feedback about this

  • Quality
  • Price
  • Service

PROS

+
Add Field

CONS

+
Add Field
Choose Image