فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ فرانس کو گزشتہ چند ہفتوں کے دوران متعدد ذرائع سے کیے جانے والے روسی ہائبرڈ حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
عرب خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی پیش رفت پر تبادلہ خیال کے لیے پیرس میں سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد میکرون نے صحافیوں کو بتایا کہ یورپ اور فرانس کو درپیش خطرات میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اضافہ ہوا ہے۔
خاص طور پر روسی ہائبرڈ خطرے میں اضافہ ہوا ہے۔فرانسیسی صدر نے یہ بھی اعلان کیا کہ متعدد ذرائع سے کیے جانے والے روسی حملے یورپیوں کی طرف سے بغیر کسی جواب کے نہیں رہیں گے۔
ان کا ماننا تھا کہ اگر ماسکو اس روش پر قائم رہا تو وہ ایک سنگین غلطی کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان حملوں کا مقصد ہمیں ڈرانا اور یوکرینیوں کی حمایت کی کوششوں کو کمزور کرنا ہے۔ نتیجہ اس کے بالکل برعکس نکلے گا۔
انہوں نے مثال کے طور پر اس گرمی کے موسم میں جرمنی کے لائپزگ ہوائی اڈے پر دھماکہ خیز مواد سے لیس ڈرون ملنے کا ذکر بھی کیا۔
میکرون نے مزید کہا کہ ہم خوفزدہ نہیں ہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری سلامتی، آج اور کل، یوکرین میں داؤ پر لگی ہوئی ہے۔
فرانس کے صدر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ انہوں نے فرانسیسی حکومت سے کہا ہے کہ وہ فرانسیسی اہم تنصیبات کو متعدد ذرائع سے کیے جانے والے روسی حملوں سے بچانے کے لیے ایک منصوبہ تیار کرے۔ یورپ میں جارحیت کی نوعیت اور روسی خطرات بدل رہے ہیں۔
فرانسیسی صدر نے اس خطرے کے مقابلے میں بیدار مغزی کو فروغ دینے اور اپنی دفاعی صنعتی اور ٹیکنالوجیکل بنیاد کی سب سے حساس سائٹس اور اہم تنصیبات کو ڈرون حملوں اور سائبر حملوں سے بچانے کا منصوبہ تیار کرنے کا کہا۔
روس نے فرانس کی دھمکی کا جواب دیتے ہوئے کہا: جتنی حیثیت ہے، اتنی ہی بات کرو، ورنہ ایسا جواب دیں گے کہ یاد رکھو گے!

Leave feedback about this