‘نیشنل سیکیورٹی اسٹریٹیجی 2002-2026”، جو اکرام سہگل کی تصنیفی سلسلہ ”اے پرسنل کرانیکل آف پاکستان” کی سولہویں جلد ہے، کی تقریبِ رونمائی اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں فوجی افسران، سفارت کاروں، پالیسی سازوں، ماہرینِ تعلیم، سرکاری حکام، تعلیمی شخصیات اور کاروباری رہنماں نے شرکت کی۔
کتاب پر تبصرے کی نشست میں ممتاز مقررین نے اظہارِ خیال کیا، جن میں کراچی کونسل آن فارن ریلیشنز (KCFR) کی وائس چیئرپرسن اور ملینیم انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ انٹرپرینیورشپ (MiTE) کی ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر حما باقائی، پاک فضائیہ کے سابق ڈپٹی چیف آف ایئر اسٹاف(ٹریننگ) ایئر مارشل(ر) مسعود اختر، نیوٹیک (NAVTTC) کی سابق چیئرپرسن گل مینہ بلال احمد، قائداعظم یونیورسٹی کے شعب دفاعی و تزویراتی مطالعات کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر سلمی ملک، پاتھ فائنڈر گروپ کے”انہانسڈ ہارمنی ڈویژن” کے چیف ایگزیکٹو آفیسر بریگیڈیئر (ر) مجاہد عالم، روٹس ملینیم ایجوکیشن گروپ کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر چوہدری فیصل مشتاق، اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی شامل تھے، جنہوں نے کلیدی خطاب کیا۔اس موقع پر لاہور کے بشپ اور چیئرمین رائٹ ریورنڈ ندیم کامران نے پاتھ فائنڈر گروپ کو یادگاری شیلڈ پیش کرتے ہوئے گرجا گھروں کی سیکیورٹی، مسیحی برادری، اقلیتوں کے حقوق اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ میں اس کے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی اسلامی فوجی انسدادِ دہشت گردی اتحاد (IMCTC) کے ملٹری کمانڈر اور پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل(ر) راحیل شریف، نشانِ امتیاز(ملٹری) تھے۔پروفیسر ڈاکٹر ہما بقائی نے اکرام سہگل کی تصنیفی خدمات، حب الوطنی، ان کے والد کی علمی و قومی میراث اور پاکستان کی مسلح افواج کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتاب پاکستان کی جغرافیائی سیاسی اور معاشی تبدیلیوں کی عوامی نقط نظر سے مرتب کی گئی ایک جامع روداد ہے، جس میں ریاست اور معاشرے کے تعلقات، غذائی تحفظ، آبادی میں اضافہ، مساوات اور تعلیم جیسے اہم موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔
ایئر مارشل(ر) مسعود اختر نے کہا کہ پاکستان میں ماضی میں ایک ایسی قومی سلامتی کی حکمتِ عملی کا فقدان رہا ہے جس پر تسلسل کے ساتھ عمل درآمد کیا جاتا۔ انہوں نے زور دیا کہ قومی سلامتی کی حکمتِ عملی کی تشکیل اور نفاذ حکومت کی ذمہ داری ہے، جس کے لیے وفاقی کابینہ، مختلف وزارتوں اور نیشنل سیکیورٹی ڈویژن کے درمیان موثر ہم آہنگی ناگزیر ہے۔گل مینہ بلال احمد نے کہا کہ یہ کتاب صرف دفاعی امور تک محدود نہیں بلکہ غذائی تحفظ، موسمیاتی تبدیلی، ٹیکس نظام، کرپٹو کرنسی، تعلیم، ہنرمندی اور انسانی فلاح جیسے موضوعات کو بھی جامع انداز میں زیرِ بحث لاتی ہے۔ڈاکٹر سلمیٰ ملک نے پاکستان کو ایک مشترکہ قومی شناخت اور مشترکہ قومی فضا قرار دیتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی صرف عسکری قوت کا نام نہیں۔ ان کے مطابق کمزور معیشت دفاع کو بھی کمزور کر دیتی ہے، جبکہ تعلیم، اچھی حکمرانی، ٹیکنالوجی، خارجہ پالیسی، روایتی اور غیر روایتی خطرات سب مل کر قومی سلامتی کے ایک مربوط نظام کی تشکیل کرتے ہیں۔بریگیڈیئر (ر) مجاہد عالم نے ایلینا کیئر (Elenacare) ملازمین کی فلاحی اسکیم، جاں بحق ملازمین کے خاندانوں کی معاونت، پروویڈینشیا بکس فائونڈیشن، پاتھ فائنڈر انٹرفیتھ ہارمنی انیشی ایٹو اور کشمالہ ویلفیئر سینٹر کے مختلف منصوبوں پر روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر چوہدری فیصل مشتاق نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی سلامتی ہی دراصل قومی سلامتی ہے۔ انہوں نے تعلیم، فلاح اور نوجوانوں کی رہنمائی کے میدان میں اکرام سہگل کی خدمات، خصوصا پروویڈینشیا بکس فائونڈیشن کے ذریعے ان کی کاوشوں کو سراہا۔سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان کے مسائل کا حل اس وقت ممکن ہے جب انہیں تسلیم کیا جائے، ان پر تنقیدی انداز میں سوالات اٹھائے جائیں اور قابلِ عمل حل تلاش کیے جائیں۔ انہوں نے اکرام سہگل پر زور دیا کہ وہ ان شخصیات کی داستانیں بھی قلم بند کریں جنہوں نے پاکستان کی قومی سلامتی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان کمزور فہم و ادراک نے قومی پالیسی سازی کو نقصان پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق قومی سلامتی کا پیمانہ روزگار، معاشی ترقی، قانون کی حکمرانی، آئینی طرزِ حکمرانی اور بنیادی انسانی حقوق ہونے چاہئیں، جن میں بلوچستان اور کشمیر بھی شامل ہیں۔
انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کو خراجِ عقیدت بھی پیش کیا۔مہمانِ خصوصی جنرل (ر) راحیل شریف، نشانِ امتیاز(ملٹری)، نے قومی سلامتی کو ایک پیچیدہ اور ہمہ جہت تصور قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کتاب کی نمایاں خصوصیت معاشی استحکام، مضبوط ریاستی اداروں اور عملی حکمتِ عملی پر اس کی توجہ ہے۔ انہوں نے اکرام سہگل کی بطور ہوا باز خدمات، شاہراہِ قراقرم کے علاقے میں ان کی خدمات، کاروباری قیادت اور ڈیووس میں پاکستان کی موثر نمائندگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اکرام سہگل کی زندگی نوجوان نسل کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔اختتامی کلمات میں اکرام سہگل نے تمام معزز مہمانوں کی شرکت پر شکریہ ادا کیا اور اپنی زندگی کے سفر، اپنے والد، شریف خاندان اور قومی سلامتی سے متعلق اپنے وژن پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اپنے اردگرد موجود لوگوں پر بھرپور اعتماد اور یقین کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی پر غیر متزلزل ایمان اور اپنے عقیدے کی روحانی طاقت ہی ان کی کامیابی کا بنیادی سرچشمہ رہی ہے۔

Leave feedback about this