تازہ ترین دنیا

ایران کا آبنائے ہرمز میں چین کے لیے سہولیات کا اعلان

ایران کا آبنائے ہرمز میں چین کے لیے سہولیات کا اعلان

چین میں ایران کے سفیر عبدالرضا رحمانی فضلی نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے نئے انتظامات میں بیجنگ کو خصوصی مراعات حاصل ہوں گی۔ تہران اور مسقط اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے بحری جہازوں پر عائد سروس فیس کی نوعیت کا جائزہ لے رہے ہیں۔ عبد الرضا رحمانی فضلی نے بیجنگ میں ورلڈ پیس فورم کے دوران کہا کہ چین ایک دوست ملک ہے۔ تہران آبنائے ہرمز سے چینی جہازوں کے گزرنے کے لیے خصوصی سہولیات کی سطح اور نوعیت کا تعین کرتے وقت اس بات کو مدنظر رکھے گا تاہم جرمن نیوز ایجنسی "ڈی پی اے” کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے ان سہولیات کی تفصیلات واضح نہیں کیں۔
ایرانی سفیر نے مزید کہا کہ ان کے ملک پر امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے بعد اب یہ آبنائے ایران کی قومی سلامتی سے جڑا معاملہ بن چکا ہے اور انہوں نے اصرار کیا کہ سلطنت عمان کے تعاون اور ہم آہنگی کے ساتھ نئے انتظامات وضع کیے جائیں گے۔
عبد الرضا رحمانی فضلی کے یہ بیانات آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ایران کی جانب سے نام نہاد سروس فیس عائد کرنے کے ارادے پر بین الاقوامی تنازع کے دوران سامنے آئے ہیں۔ یہ ایک ایسی تجویز ہے جسے عالمی توانائی کی نقل و حرکت میں اس گزرگاہ کی اہمیت کی وجہ سے امریکی، یورپی اور خلیجی مخالفت کا سامنا ہے۔ گردش کرنے والے تخمینوں سے پتہ چلتا ہے کہ عالمی تیل کی تجارت کا تقریباً 20 فیصد اس آبنائے سے گزرتا ہے۔
ایران اور عمان نے گزشتہ ہفتوں کے دوران آبنائے ہرمز میں نیویگیشن کے انتظام کے لیے نئے انتظامات پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ مسقط نے گزشتہ بیانات میں اس بات پر زور دیا تھا کہ کوئی بھی مستقبل کی تنظیم بین الاقوامی قانون کے دائرے میں ہونی چاہیے اور اسے لازمی ٹرانزٹ فیس عائد کرنے میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے حساس ترین سمندری راستوں میں سے ایک ہے کیونکہ یہ خلیج عرب کو بحیرہ عرب سے جوڑتا ہے اور اس کے ذریعے تیل اور گیس کی برآمدات کا ایک بڑا حصہ ایشیائی منڈیوں، خاص طور پر چین کو جاتا ہے۔ چین اس خطے سے توانائی کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے۔
ایرانی سفیر کے بیانات تہران کے اس رجحان کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ آبنائے میں نئے انتظامات کو ملکوں کے ساتھ اپنے سیاسی اور اقتصادی تعلقات کے ساتھ جوڑنا چاہتا ہے۔ خاص طور پر ان شراکت داروں کے ساتھ جوڑنا چاہتا ہے
جنہیں وہ دوست سمجھتا ہے۔ یہ سب ایسے ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اس راستے کے انتظام کے طریقہ کار اور مجوزہ سروس فیس اب بھی وسیع بین الاقوامی تنازع کا شکار ہیں۔

Leave feedback about this

  • Quality
  • Price
  • Service

PROS

+
Add Field

CONS

+
Add Field
Choose Image