پاکستان کی اوپن کرنسی مارکیٹ میں ایرانی ریال کی طلب میں ایک بار پھر تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے باعث اس کی قدر میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں ایران اور امریکا کے درمیان مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی اور جنگ بندی سے متعلق پیش رفت کے بعد ایرانی کرنسی میں دوبارہ تیزی آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق عالمی تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال میں کمی کے اثرات بھی کرنسی مارکیٹ پر پڑے ہیں، جس کے بعد ایرانی ریال کی قدر میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ اوپن مارکیٹ میں 10 ملین ایرانی ریال کی قیمت میں تقریباً 2 ہزار سے 3 ہزار روپے تک اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد اس کی قیمت 3 ہزار 500 روپے سے 4 ہزار 500 روپے کے درمیان پہنچ گئی ہے۔
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ECAP) کے چیئرمین ملک بوستان کے مطابق گزشتہ دو روز کے دوران پاکستانی خریداروں نے مجموعی طور پر 60 ارب ایرانی ریال خریدے ہیں، جن کی مالیت تقریباً 25 کروڑ روپے بنتی ہے۔
ان کے مطابق تقریباً تین ماہ کے وقفے کے بعد ایرانی کرنسی کی طلب دوبارہ بڑھنا شروع ہوئی ہے، اور زیادہ تر خریدار کم اور متوسط آمدنی والے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔
ملک بوستان نے بتایا کہ ڈھائی ماہ قبل امریکی صدر کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد ایرانی کرنسی کی خریداری میں اچانک اضافہ ہوا تھا، جس کے نتیجے میں 10 ملین ریال کی قیمت چند سو روپے سے بڑھ کر تقریباً 12 ہزار روپے تک پہنچ گئی تھی۔ تاہم بعد ازاں ایران پر ہونے والے اسرائیلی اور امریکی حملوں کے باعث کرنسی کی قدر میں نمایاں کمی آئی اور یہ قیمت دوبارہ 2 سے 3 ہزار روپے تک گر گئی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حالیہ دنوں میں دوبارہ طلب بڑھنے کے بعد ایرانی کرنسی کی قدر میں بہتری کا رجحان دیکھا جا رہا ہے، تاہم سرمایہ کاروں کو احتیاط برتنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت صرف ابتدائی معاہدے کی صورتحال ہے جبکہ حتمی ڈیل ابھی باقی ہے، اس لیے مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا امکان برقرار رہے گا۔

Leave feedback about this