پاکستان تازہ ترین

ایران ،امریکہ مذاکرات !اسلام آباد میں سکیورٹی کے سخت انتظامات ، ریڈزون فوج کے حوالے

ایران ،امریکہ مذاکرات !اسلام آباد میں سکیورٹی کے سخت انتظامات ، ریڈزون فوج کے حوالے

اسلام آباد اور راولپنڈی میں دس اپریل سے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد مذاکراتی عمل شروع ہو رہا ہے۔ دونوں ملکوں کے وفود اور سکیورٹی عملہ پہلے ہی پاکستان پہنچنا شروع ہو گئے ہیں، جس کے پیش نظر جڑواں شہروں میں سخت سکیورٹی اور انتظامات کیے گئے ہیں۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ کے مطابق ایرانی وفد کی سربراہی ایران کی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کریں گے، جب کہ امریکی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر سٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر شامل ہیں۔

اس موقع پر ضلعی انتظامیہ نے ریڈ زون میں وسیع حدود قائم کر دی ہیں، جس میں زیرو پوائنٹ سے لے کر فیصل مسجد تک کا علاقہ شامل ہے۔ ریڈ زون میں پارلیمنٹ ہاؤس، ایوان صدر، وزیراعظم ہاؤس اور ڈپلومیٹک انکلیو سمیت متعدد سفارت خانے موجود ہیں۔ وزارت داخلہ کے مطابق ریڈ زون کا سکیورٹی کنٹرول فوج کے پاس ہوگا جبکہ رینجرز اور پولیس کے اہلکار بھی تعینات ہوں گے۔

صرف سرکاری گاڑیوں کو ریڈ زون میں داخلے کی اجازت ہے اور وفاقی وزارتوں میں کام کرنے والے اہلکاروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس دوران گھروں سے ڈیوٹی انجام دیں۔

اسلام آباد اور راولپنڈی میں دو دن کی مقامی تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ تمام سکول اور کالجز بند ہیں جبکہ سپریم کورٹ، وفاقی آئینی عدالت، اسلام آباد ہائی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹس میں مقدمات کی سماعت نہیں ہوگی۔ شہر میں خصوصی ٹریفک پلان کے تحت ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند ہے اور اہم ہائی ویز جیسے اسلام آباد ہائی وے اور سرینگر ہائی وے غیر ملکی وفود کی آمد کے دوران کچھ دیر کے لیے بند کیے جائیں گے۔

پاکستان تحریک انصاف نے سابق وزیرِاعظم عمران خان کی رہائی کے لیے آج راولپنڈی میں ہونے والا احتجاجی جلسہ منسوخ کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ جلسے کی نئی تاریخ کا اعلان جلد کیا جائے گا۔ جڑواں شہروں میں دفعہ 144 نافذ ہے، جس کے تحت پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے اکٹھا ہونے پر پابندی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا نمائندے بھی پاکستان پہنچ رہے ہیں، اور مختلف ممالک سے پچاس سے زائد صحافیوں نے ویزے کے لیے درخواستیں دی ہیں۔ مذاکراتی عمل کی کوریج کے لیے کنونشن سینٹر یا پاک چائنا سینٹر میں انتظامات کیے جانے کا امکان ہے۔

یہ مذاکرات خطے میں امن اور سفارتی تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہیں، اور پاکستان کے لیے اس تاریخی عمل میں ثالثی کا کردار بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

Leave feedback about this

  • Quality
  • Price
  • Service

PROS

+
Add Field

CONS

+
Add Field
Choose Image