چین نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو معمول پر لانے کیلیے پاکستان کے کردار کی تعریف کی ہے۔
پاکستان میں تعینات چینی سفیر جیانگ زائیڈونگ نے اپنے بیان میں کہا کہ مشرق وسطیٰ میں پاکستان کا ثالثی کردار قابلِ ستائش ہے، چین طاقت کے بجائے بات چیت سے تنازعات کے حل کا حامی ہے، خطے کی صورتحال میں بیجنگ یکطرفہ اقدامات اور طاقت کی سیاست کے خلاف ہے۔
چینی سفیر جیانگ زائیڈونگ نے کہا کہ چین بین الاقوامی قانون کو ملکی قانون کے تابع کرنے کی مخالفت کرتا ہے، غیر فوجی اہداف پر حملہ نہیں ہونا چاہیے بحری راستوں کی سلامتی میں خلل نہیں پڑنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چین کی ثالثی کی کوششیں تنازع کے حل تک جاری رہیں گی، مشرق وسطیٰ میں ہونے والے اقدامات میں یو این چارٹر کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کی جب کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے رابطہ کیا۔
نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، مصری اور ترک وزیر خارجہ بھی امریکی نمائندے وٹکوف اور عراقی وزیرخارجہ عباس عراقچی سے رابطے میں تھے۔
برطانوی جریدے کے مطابق وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کے مذاکرات سے متعلق بیان کی تفصیلات نہیں بتائیں تاہم یہ کہا کہ سفارتی سطح پر بات چیت نہایت حساس معاملہ ہے۔
علاوہ ازیں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے ایران اور ترکیہ کے وزرا خارجہ سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے خطے کی بگڑتی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ اسحاق ڈار نے امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کیلیے بات چیت اور سفارتکاری کی اہمیت پر زور دیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ مسائل کا حل صرف بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے، دونوں وزرائے خارجہ نے بدلتی صورتحال پر قریبی اور مسلسل رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
انہوں نے اس سے پہلے ترک ہم منصب خاقان فدان سے فون پر گفتگو کی جس میں دونوں رہنماوں نے خطے کی مجموعی صورتحال اور حالیہ پیشرفت کا جائزہ لیا۔

Leave feedback about this