جمعیت علمائے اسلام کے رہنما حافظ حمد اللہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے آئین میں واضح طور پر درج ہے کہ قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں کی جا سکتی لہٰذا اگر پارلیمنٹ قرآن و سنت کے منافی قوانین منظور کرے تو یہ آئین سے انحراف کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن افراد نے پارلیمنٹ میں بیٹھ کر آئین کی خلاف ورزی کی ہے، ان پر آرٹیکل 6 کا اطلاق ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان جو کچھ کر رہے ہیں وہ آئین کے مطابق کر رہے ہیں کیونکہ آئین قرآن و سنت کی بات کرتا ہے۔ میں مولانا کو تجویز دے رہا ہوں کہ چاروں صوبوں میں اجتماعی شادیوں کا انعقاد کریں خواہ وہ 18 سال سے کم عمر ہی کیوں نہ ہوں۔
حافظ حمد اللہ کا کہنا تھا کہ ہم قانون کو پاؤں کے تلے روندیں گے کیونکہ جو قانون قرآن و سنت کے خلاف ہو اس قانون کو ہم تسلیم نہیں کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر مجھے غصہ آیا اور میں نے فیصلہ کیا تو میں بھی 16 سالہ لڑکی سے شادی کروں گا۔

Leave feedback about this