پشاور میں آٹے کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق شہر میں 20 کلوگرام فائن آٹے کا تھیلا 3 ہزار روپے سے بڑھ کر 3300 روپے تک پہنچ گیا ہے، جبکہ کس آٹے کے 20 کلوگرام تھیلے کی قیمت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔فلور ڈیلرز کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں آٹے کی مناسب سپلائی نہ ہونے کی وجہ سے قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور اگر سپلائی کا مسئلہ برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں مزید اضافہ کا خدشہ ہے۔ شہریوں نے حکام سے فوری مداخلت اور قیمتوں کو قابو میں لانے کی اپیل کی ہے۔
واضح رہے کہ پشاور میں قیمتوں میں یہ اضافہ صرف شہر تک محدود نہیں رہا، بلکہ صوبے کے دیگر شہروں میں بھی آٹے کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں۔ بالاکوٹ میں فائن آٹا 6 ہزار روپے فی من، بٹگرام میں 6500 روپے فی من فروخت ہو رہا ہے، جبکہ ڈیل سپر آٹے کی قیمت 5800 روپے فی من تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح مختلف مارکیٹوں میں ڈبل سپر آٹا 5880 روپے فی من تک فروخت ہو رہا ہے۔
فلور ڈیلرز کے مطابق بڑھتی ہوئی قیمتوں کی بنیادی وجہ آٹے کی محدود سپلائی اور مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی طلب ہے۔ اس اضافے نے عام شہریوں کے لیے بنیادی ضرورت کی اشیاء تک رسائی کو مشکل بنا دیا ہے، اور مہنگائی کی اس لہر نے عوام میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومتی سطح پر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو پشاور اور دیگر شہروں میں آٹے کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جس سے غریب اور درمیانہ طبقہ شدید متاثر ہوگا۔

Leave feedback about this