گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے سانحہ پشاور میں جاں بحق بچوں کے اہل خانہ کو فی کس 10،10 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 2 لاکھ روپے امداد دینے کا اعلان کردیا ہے۔
جمعرات کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اعلان کیا کہ پشاور میں اسکول چھت حادثے کے شہدا کے لواحقین کو فی کس 10،10 لاکھ روپے دیے جائیں گے جب کہ زخمیوں کو 2 لاکھ روپے امداد دی جائے گی۔
فیصل کریم کنڈی نے بتایا کہ نجی اسکول کی چھت گرنے کے واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹیاں قائم کردی گئی ہیں جب کہ انکوائری رپورٹ 4 دن میں پیش کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ واقعے کے ذمہ داروں اور اسکول کو این او سی جاری کرنے والوں کا تعین کیا جائے گا اور بچوں کی زندگیوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
گورنر خیبرپختونخوا نے صوبے بھر کے سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کا اسٹرکچرل آڈٹ کرانے کا عندیہ بھی دے دیا۔
ٹیچر اور 15 بچوں کی نماز جنازہ ادا
پشاور میں اسکول کی چھت گرنے کے واقعے میں جاں بحق اسکول ٹیچر اور 15 بچوں کی نماز جنازہ ادا دیر کالونی میں کردی گئی جب کہ نماز جنازہ میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سمیت سیاسی و عسکری حکام نے شرکت کی۔
اسکول کی سب سے اوپر والی منزل لکڑی کی بنی تھی، اہل خانہ
دوسری پشاور سانحے میں جاں بحق بچوں کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ واقعے کی خبر صبح ساڑھے 9 بجے ملی، اسکول کی سب سے اوپر والی منزل لکڑی کی بنی تھی، جس پر بار بار مٹی ڈالی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ اسکول میں پڑھنے والے تمام بچے ہمارے تھے، کئی بچوں کو اپنے ہاتھوں سے ملبے سے باہر نکالا، لوگوں نے اسکول کے مالک کو عمارت کی خستہ ہالی کی بار بار نشاندہی کرائی لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی اور کہا جاتا رہا کہ اللہ مالک ہے کچھ نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ 15 اکتوبر کی صبح پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے سے 35 افراد جاں بحق ہوگئے، جن میں 34 بچے اور 1 ٹیچر شامل ہے، مجموعی طور پر 50 سے زائد بچے زخمی ہوئے جب کہ حادثے کے وقت اسکول میں 110 بچے موجود تھے۔
لیڈی ریڈنگ اسپتال انتظامیہ کے مطابق جاں بحق افراد کی لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا، تمام جاں بحق ہونے والوں کی لاشیں لواحقین کے حوالے کردی گئیں جب کہ تمام زخمیوں کو طبی امداد کے بعد اسپتال سے فارغ کردیا گیا۔ ریسکیو اہلکاروں نے ملبے تلے دبے بچوں اور اسکول عملے کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں کیں۔
سی سی سی پی او پشاور میاں سعید کے مطابق اسکول میں اوپر تلے 3 کلاس رومز تھے، جن میں 115 بچے زیر تعلیم تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اسکول کی پہلی منزل کے کلاس روم میں 35 دوسری منزل میں 40 جب کہ گراونڈ فلور پر 45 بچے موجود تھے۔
پولیس کے مطابق اسکول کی عمارت کا ڈھانچہ کمزور تھا اور چھت پر اضافی تعمیراتی وزن کے باعث حادثہ پیش آیا۔ اسکول کے مالک کو حراست میں لے لیا گیا جب کہ خیبرپختونخوا کے محکمہ تعلیم نے واقعے کی وجوہات اور ممکنہ غفلت کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کردی
