چین اور شمالی کوریا کے درمیان 12 سال کی تاخیر کے بعد اہم پل کھول دیا گیا، جسے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعلقات مزید مضبوط بنانے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
خبررساں ادارے رائٹرزکے مطابق نئے یالو دریائی پل کی افتتاحی تقریب جمعرات کو منعقد ہوئی، خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) اورچین کے سرکاری ادارے شنہوا نے بھی پل کے افتتاح کی تصدیق کی۔
سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری آن لائن ویڈیو میں پل اوراس پرکھڑے ٹرکوں کو دکھایا گیا، جن پرچین اورشمالی کوریا کے قومی پرچم آویزاں تھے۔
رپورٹ کے مطابق چارلین پرمشتمل یہ پل تقریباً 3 کلومیٹر طویل ہے، جو چین کے شمال مشرقی شہرڈانڈونگ کو شمالی کوریا کے شہرسینوئیجو سے ملاتا ہے۔
بیجنگ کو توقع ہے کہ اس رابطے سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی سرگرمیوں، تجارت اورعوامی سطح پر روابط کو فروغ ملے گا۔
افتتاحی تقریب سے ویڈیو خطاب کرتے ہوئے چینی وزیراعظم لی چیانگ نے کہا کہ چین اورشمالی کوریا کے تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں اورایک نئے باب کا آغاز ہو رہا ہے۔
شنہوا کے مطابق لی چیانگ نے پل کو دونوں ممالک کی روایتی دوستی کی علامت بننے والا ایک نیا سنگ میل قرار دیا۔
شمالی کوریا کے وزیراعظم پاک تھائے سونگ نے بھی تقریب سے ویڈیو خطاب کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک پل کے افتتاح کے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے رابطوں کو مزید بہتر بنائیں گے اور سرحدی علاقوں میں تعاون کے امکانات تلاش کریں گے۔
اے پی کے مطابق پل کو ابتدائی طور پر 2014 میں استعمال کے لیے کھولے جانے کی توقع تھی، جب چین اپنی جانب تعمیراتی کام مکمل کرچکا تھا تاہم شمالی کوریا نے اپنی جانب ضروری تعمیراتی کام مکمل نہیں کیے تھے۔
شمالی کوریا کے شہرسینوئیجو میں تعمیراتی پیش رفت نہ ہونے کے باعث یہ قیاس آرائیاں سامنے آئیں کہ پیانگ یانگ چین پربڑھتے ہوئے معاشی انحصارسے محتاط ہے یا شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر پابندیاں سخت کرنے سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں کے حق میں چین کے ووٹ دینے پر ناخوش تھا۔
بعض مبصرین نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان پل کے مقام پراختلافات موجود تھے۔
اب پل کے افتتاح سے دونوں ممالک کے درمیان زمینی رابطوں اور تجارت کو وسعت دینے کے امکانات بڑھ گئے ہیں، تاہم اس منصوبے کے عملی معاشی اثرات کا انحصار آئندہ تجارتی سرگرمیوں اور دوطرفہ تعاون پر ہوگا۔

Leave feedback about this