خیبرپختونخواہ کا وزیر اعلیٰ ٹھیک تھا، نہ وہ گالی دیتا تھا، بس کہتا تھا اس ظلم کے خلاف کھڑے ہو، اب بھی وقت ہے فیصلوں کو ریورس کریں؛ اپوزیشن لیڈر کا قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے خیبر پختونخواہ میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے فیصلوں کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بندوق کا شوق بہت خطرناک ہوتا ہے اور حکومت الفاظ کے ہیر پھیر سے معاملے کو گڑ بڑ کرنے سے گریز کرے، آج بھی ملک و آئین کی خاطر وزیراعظم کے ساتھ مل کر بیٹھنے کے لیے تیار ہیں، یہاں ایوان میں دو کرسیاں لگائیں، میں اور شہباز بھائی آمنے سامنے بیٹھ جاتے ہیں اور مسائل کا حل نکالتے ہیں، ایمرجنسی کا فیصلہ سراسر غلط ہے، اسے چھوڑیں اور لوگوں سے بات چیت کا راستہ اختیار کریں۔
سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ کا دفاع کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی ٹھیک انسان تھا، نہ وہ کسی کو گالی دیتا تھا بلکہ صرف یہی کہتا تھا کہ اس ظلم کے خلاف کھڑے ہو جاؤ، لہذا اب بھی وقت ہے کہ حکومت ان غیر آئینی فیصلوں کو ریورس کرے، آج ذوالفقار علی بھٹو قلندر سے بڑا پیر بن چکا ہے، کیا بانی پی ٹی آئی عمران خان کو بھی قلندر بنانا چاہتے ہیں؟۔
محمود خان اچکزئی نے اعلان کیا کہ ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ ہم عمران خان سے ملاقات کریں گے، کسی کو کچھ بھی نہیں بتائیں گے، عمران خان کی ذہنی و جسمانی حالت کا جائزہ لیں گے اور جہاں سے آپ لوگوں کی بات رکی تھی، وہیں سے دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کی کوشش کریں گے۔
ملک میں معاشی بدعنوانی اور انتظامی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن رہنما نے انکشاف کیا کہ ملک میں کھربوں روپے کی کرپشن ہو رہی ہے اور 23 ہزار سے زائد سویلین و ملٹری بیوروکریٹس دوہری شہریت رکھتے ہیں، ملک کے حساس اداروں سے اپیل ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کروائی جائیں اور اس کے لیے قائم کی جانے والی تحقیقی کمیٹی کا سربراہ وفاقی وزیر خواجہ آصف کو بنایا جائے۔
