کمرے سے برآمد ہونے والی بوتلوں میں الکوحل نہیں بلکہ شہد اور زیتون کا تیل تھا، ٹیسٹ میں شراب کا الزام غلط ثابت ہوا، عدالت نے تمام ملزمان کو باعزت بری کردیا؛ عروشہ میمن ایڈووکیٹ کی گفتگو
صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کی جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت نے 8 سال پرانے ضیاء الدین ہسپتال کے کمرے سے شراب برآمدگی کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے صوبائی وزیرِ اطلاعات شرجیل انعام میمن اور دیگر تمام ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پر باعزت بری کردیا۔
تفصیلات کے مطابق عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ پولیس اور پراسیکیوشن عدالت میں ملزمان کے خلاف جرم ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے، استغاثہ کی جانب سے کوئی بھی ٹھوس یا قابلِ قبول شواہد پیش نہیں کیے جا سکے، شرجیل میمن کے علاوہ اس مقدمے میں نامزد دیگر ملزمان، جن میں مشتاق، شکر دین، محمد جان، حبیب اللہ اور نسیم شجاع شامل ہیں، انہیں بھی تمام الزامات سے بری کردیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ اس مقدمے کا پس منظر سال 2018ء کا ہے جب اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ضیاء الدین ہسپتال کے اس کمرے کا اچانک دورہ کیا تھا جہاں شرجیل میمن زیرِ علاج تھے، دورے کے دوران کمرے سے مبینہ طور پر شراب کی بوتلیں ملنے کا دعویٰ کیا گیا تھا، جس کی بنیاد پر تھانہ بوٹ بیسن میں مقدمہ درج کیا گیا، تاہم طویل قانونی کارروائی اور فرانزک شواہد کی روشنی میں عدالت نے اب تمام ملزمان کو بری کردیا۔
