پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا کہ لانگ مارچ جاری ہے اور کسی دباؤ کے تحت ختم نہیں ہوگا، لانگ مارچ ختم کرنے کی کنجی اڈیالہ جیل میں بند عمران خان کے پاس ہے، وزیراعظم صاحب میڈیا پر مذاکرات مذاکرات نا کھیلیں، اگر اختیارات ہیں تو ہمارے جائز مطالبات تسلیم کریں۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ عمران خان سے ملاقاتوں پہ پابندی ختم ہو، انہیں ہسپتال منتقل کیا جائے اور ان کے کیسز سنے جائیں اور عمران خان کی بہنوں سمیت جتنی بھی اسیر خواتین ہیں ان کو رہا کیا جائے
انہوں نے کہا کہ سہیل افریدی صاحب کے خلاف جو منفی پروپیگنڈا ہو رہا ہے وہ انتہائی افسوسناک اور تشویشناک ہے، دہشتگردی مینڈیٹ چھیننے سے نہیں ختم ہوگی، دہشتگردی ختم کرنے کے لیے تمام سٹیک ہولڈر کے ساتھ بیٹھنا پڑے گا، آج بھی دعوت دیتے ہیں کہ دہشتگردی ختم کرنی ہے تو وفاقی حکومت صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھائے اور مسئلے کا حل نکالے۔
شوکت یوسفزئی نے کہا کہ اگر سہیل آفریدی کو غیر جمہوری طریقے سے ہٹانے کی کوشش کی گئی تو قبائل کے اندر بھی تشویش پائی جائے گی اور یہ کسی صورت ملک مفاد میں نہیں ہوگا اور نہ ہی اس سے دہشتگردی میں کمی آئے گی۔
شوکت یوسفزئی نے کہا کہ گورنر خیبر پختون خواہ نے کس حیثیت میں آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری کو طلب کیا اور اجلاس کیا، 18 ویں ترمیم کے بعد تو گورنر کے پاس اخروڈ توڑنے کا اختیار نہیں ہے، کیا گورنر نے اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کیا؟ گورنر صاحب ابھی تو نہ کوئی ایمرجنسی لگی ہے نہ گونراج لگا ہے، اپ کو اتنی جلدی رہی۔
ان کا کہنا تھا کہ گورنر راج کی دھمکی وہ لوگ دے رہے ہیں جن کی اپنی پرفارمنس سوالیہ نشان ہے، اگر حکومت دہشت گردی ختم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے تو تحریک انصاف کے جائز مطالبات کو تسلیم کرے اور ایک ہی فارمولا ہے جس پر عمل کر کے تمام مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے، وہ ہے برسٹر گوہر کا فارمولا مذاکرات مذاکرات مذاکرات۔
