اگلا بندہ نیو یارک سے کمرشل فلائٹ پرآگیا اور پنجاب کی وزیراعلیٰ کو لاہور سے بھکر جیٹ اسٹریم 500 میں جانا ہے؛ اقوام متحدہ کے سربراہ کی پاکستان آمد پر خیبرپختونخواہ کے مشیرخزانہ کا تبصرہ
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی پاکستان آمد پر اسلام آباد ایئرپورٹ پر اپنا ٹرالی بیگ خود اٹھانے کی سادگی نے جہاں عوام کو متاثر کیا ہے، وہیں سیاسی حلقوں میں اس پر تبصرے بھی شروع ہوگئے۔
خیبرپختونخواہ کے مشیرِ خزانہ مزمل اسلم نے انتونیو گوتریس کے اس عمل کا موازنہ پاکستانی حکمرانوں کے شاہانہ طرزِ زندگی اور مہنگے سرکاری دوروں سے کرتے ہوئے ایک طنزیہ بیان جاری کیا، سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر مزمل اسلم نے اپنے تبصرے میں لکھا کہ اگلا بندہ نیویارک سے کمرشل فلائٹ پر آگیا اور پنجاب کی وزیراعلیٰ کو لاہور سے بھکر جیٹ اسٹریم 500 میں جانا ہے۔
خیبرپختونخواہ کے مشیرِ خزانہ مزمل اسلم کا یہ بیان دراصل حکومتی شخصیات کی جانب سے لگژری جہازوں، ہیلی کاپٹرز اور شاہانہ پروٹوکول کے استعمال پر ایک طنز ہے، جب کہ دوسری طرف دنیا کی سب سے بڑی عالمی تنظیم کے سربراہ نے ایک عام مسافر کی طرح سفر کرنے اور اپنا سامان خود اٹھانے کی اعلیٰ مثال قائم کردی ہے۔
خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اپنے تین روزہ دورے پر پاکستان پہنچے ہیں، اس دورے کے دوران ان کی ایک سادگی اور عاجزی پر مبنی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی، جس نے روایتی شاہانہ پروٹوکول کے حامل سیاسی و سرکاری حلقوں پر سوالات اٹھا دیئے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جب اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اسلام آباد ایئرپورٹ پر پہنچے تو انہوں نے کسی بھی قسم کے بھاری بھرکم پروٹوکول یا عملے پر انحصار کرنے کے بجائے اپنا ٹرالی بیگ خود اٹھایا اور مسکراتے ہوئے ایئرپورٹ لاؤنج سے باہر روانہ ہوئے، دنیا کی سب سے بڑی عالمی تنظیم کے سربراہ، جن سے دنیا بھر کے صدور، وزرائے اعظم اور وزرائے خارجہ ملاقاتیں کرتے ہیں، ان کا یہ انتہائی انکساری والا انداز دیکھ کر ایئرپورٹ پر موجود لوگ بھی دنگ رہ گئے۔
اس سادگی کو پاکستان کے سیاسی و سماجی حلقوں میں انتہائی حیرت اور تحسین کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے، جہاں عام طور پر چھوٹے درجے کے حکام یا مقامی شخصیات بھی شان و شوکت اور بھاری پروٹوکول کو اپنی شان کا مظہر سمجھتی ہیں، وہاں انتونیو گوتریس کا یہ عمل ان تمام اشرافیہ اور رہنماؤں کے لیے ایک عملی سبق ہے جو معمولی عہدوں پر فائز ہو کر بھی پروٹوکول کے حصار میں رہنا پسند کرتے ہیں، دنیا کے سب سے با اثر عہدے پر فائز ہونے کے باوجود ان کا یہ عاجزانہ طرزِ عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ عظمت پروٹوکول کی محتاج نہیں بلکہ عاجزی اور سادگی میں اصل کمال ہے۔
